خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 767 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 767

خطبات مسرور جلد دہم 767 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء ایسا اُس کے آگے جھکنے والے ہو، اس طرح دلی چاہت سے عبادت کرنے والے ہو جو دل سے پیدا ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ اور اُس کی محبت میں ایسے کھوئے جاؤ کہ گویا تم نے اُس کی عظمت اور جلال اور حسن لازوال کو (ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550-551) دیکھ لیا ہے۔“ پس جب انسان اللہ تعالیٰ کی لامحدود اور کبھی نہ ختم ہونے والے حسن کو دیکھتا ہے، اُس کی صفات پر یقین رکھتا ہے، اُس کی عبادت کی طرف توجہ رہتی ہے تو پھر اُس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہو ہی نہیں سکتی جو خدا تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہو اور جب یہ صورت ہو تو پھر یہ شہید کا مقام ہے۔آپ نے شہید کی یہاں یہ بھی وضاحت فرمائی کہ جب یہ تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم ہوتا ہے تو پھر استقامت کی قوت پیدا ہوتی ہے۔پھر انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس راہ کی جو مشکلات ہیں اُن میں بھی سکون ملتا ہے، وہ بھی تسکین کا باعث بن جاتی ہیں۔ہر مشکل کے آگے سینہ تان کرمومن کھڑا ہو جاتا ہے۔کوئی خوف یا غم یا حسرت دل میں نہیں ہوتی کہ اگر میں نے یہ نہ کیا ہوتا ، اگر میں نے فلاں مخالف احمدیت کی بات مان لی ہوتی ، اُن کی دھمکیوں سے احمدیت چھوڑ دی ہوتی تو اس وقت جن تکلیفوں سے میں گزر رہا ہوں ان سے بیچ جاتا۔یہ کبھی ایک مومن سوچ ہی نہیں سکتا اگر وہ حقیقی معنوں میں ایمان لاتا ہے۔بلکہ ایمان کی مضبوطی، اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ان تکلیفوں میں بھی اُسے آرام اور راحت اور خوشی پہنچارہا ہوتا ہے۔پس یہ ہے شہید کا مقام۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ شہید کا مقام تب ملتا ہے جب انسان تکلیف برداشت کر کے خدا تعالیٰ (ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 276 مطبوعہ ربوہ ) کی عبادت کرے۔ہر دنیاوی آرام کو خدا تعالیٰ کی رضا اور اُس کی عبادت پر قربان کر دے۔اور نہ صرف قربان کرے بلکہ اُس مقام تک پہنچ جائے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے اس عمل سے ایسا سکون ملے، اس عبادت میں اُسے ایسا مزا آ رہا ہو کہ جیسا کہ شہد کی مٹھاس سے مزا آتا ہے۔ایک مومن کی نماز اور عبادتیں، نماز پڑھنے کی طرف توجہ یا عبادتوں کی طرف توجہ کسی مجبوری کے تحت نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ پر یقین کامل کی وجہ سے ہو۔اس لئے ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور ہر وہ فعل جو خدا تعالیٰ کی خاطر کیا جا رہا ہو، خدا تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنتا ہے۔یہ رضا جو ہے یہ پھر شہادت کا مقام دلاتی ہے۔اسی طرح ہر برائی جو انسان اس لئے چھوڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور میں نے اُس کی رضا حاصل کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ سے اپنے