خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 760 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 760

خطبات مسرور جلد دہم 760 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012 ء کے ابتدائی حالات کو ہی دیکھ کر لوگوں کی بیعت لینا چھوڑ دی تھی اور جو کوئی آتا اُس کو آپ فرمایا کرتے تھے کہ اب جس کو یاد الہی کا شوق ہو وہ قادیان مرزا غلام احمد کے پاس جائے۔1885ء میں ان کی وفات ہوگئی تھی۔یہ وہی بزرگ ہیں جن کو حج کے وقت دعا کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا تھا۔بہر حال کہتے ہیں کہ منشی احمد جان صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہم تو ان ہوند کے تھے۔(جب کوئی نہیں تھا تو ہم تھے )۔ہم تو مخلوق خدا کو ایک ایک قطرہ دیا کرتے تھے مگر یہ شخص یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام تو ایسا عالی ہمت پیدا ہوا ہے کہ اس نے تو چشمہ پر سے پتھر ہی اُٹھا دیا ہے۔اب جس کا جی چاہے سیر ہوکر پیئے اور ساتھ ہی یہ شعر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی شانِ مبارک میں فرمایا کرتے تھے۔ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لدھیانہ آنے سے قبل ہی آپ نے اپنے مریدوں سے فرما دیا تھا کہ مرزا غلام احمد صاحب لدھیانہ آنے والے ہیں، ہم بھی اُن کو ملنے کے واسطے اسٹیشن پر جائیں گے۔میں جن کی طرف اشارہ کروں تم سمجھ لینا کہ وہی مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔آپ کو اپنے مریدین نے کہا کہ جب حضور نے ان کو دیکھا ہی نہیں (یعنی آپ نے دیکھا ہی نہیں ) تو آپ پھر کیسے بتلا دیں گے کہ فلاں شخص ہی مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ حدیثوں میں تو پہلے سے ہی حلیہ موجود ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب اسٹیشن لدھیانہ پر آ کر اُترے اور بہت مخلوق کے درمیان آپ چلے آرہے تھے اُس وقت آپ نے اپنے مریدین سے اشارہ کر کے بتلایا کہ وہ شخص مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے قریب آئے تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو السلام علیکم کہ کر مصافحہ کیا۔حضرت منشی احمد جان صاحب کی عقیدت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ میں نے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔پھر حضرت اقدس کی مجلس کا جو رنگ مجھ پر چڑھا، پہلے تو یہ مجلس پسند نہیں آ رہی تھی لیکن اُس کے بعد، بیعت کرنے کے بعد جب رنگ چڑھا تو پھر پہلی مجلسوں کا جو رنگ تھاوہ پھیکا نظر آنے لگا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 11 صفحہ 355 تا 358 روایت حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب) اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کی طرح ایمان ویقین میں بڑھا تا چلا جائے اور ہم میں سے ہر ایک میں وہ رنگ چڑھ جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں چڑھانا چاہتے تھے اور جس کے چڑھانے کے لئے آپ تشریف لائے۔صرف بیعت کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق بھی ہم میں سے ہر ایک کا پیدا ہونا چاہئے۔