خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 758
خطبات مسر در جلد دہم 758 خطبه جمعه فرموده مورخہ 7 دسمبر 2012ء بدولت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی حاصل ہو گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور میں خدا کی قسم کھا کر تحریر کرتا ہوں کہ جب 1905ء میں میں بیعت ہوا تو حضور وہی تھے جو خواب میں میری طرف دیکھ رہے تھے۔اس طرح سے خدا جس کو چاہتا ہے سچا راستہ دکھا دیتا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد 7 صفحہ 218-219 روایت حضرت شیخ محمد افضل صاحب) حضرت شیخ محمد افضل صاحب فرماتے ہیں کہ جب میری عمر 15 سال کے قریب تھی تو میں نے بہشت اور دوزخ اور اعراف کو خواب میں دیکھا۔اُن کے دیکھنے کی ایک لمبی تفصیل ہے محض اسی پر ہی اکتفا کرتا ہوں کہ جب میں بہشت دیکھ کر باہر آیا تو ایک بزرگ ملے اور انہوں نے میرے کندھے پر دست مبارک رکھ کر فرمایا کہ لڑکے تو کہاں؟ میں نے تو اُس کا کوئی جواب نہ دیا۔اُس بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ مکان یعنی بہشت کس مالیت کا ہے؟ بزرگ نے فرمایا کہ اگر تیرا پٹیالہ ( یعنی یہ پٹیالہ کے تھے ) تیرا پٹیالہ سود فعہ بھی فروخت ہو تو اس مکان کی ایک اینٹ کی بھی قیمت نہ ہوگا۔میری آنکھ کھل گئی؟ خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جب میں 1905 ء میں بیعت کے لئے قادیان شریف گیا تو مرز اصاحب وہی بزرگ تھے جو مجھ کو بہشت کے دروازے پر ملے تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 219 روایت حضرت شیخ محمد افضل صاحب) حضرت محمد فاضل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد نور محمد صاحب ( ان کی بھی بیعت 1899ء کی ہے ) یہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے۔فرماتے ہیں کہ ایک دن موضع مان کوٹ جو ہمارے قریب آٹھ کوس کے فاصلے پر ہے، گیا۔رات کو وہاں پر نماز پڑھ کرسویا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں مصلی پر بیٹھا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مصلی کے (جائے نماز کے) سرہانے کی طرف آ کر بیٹھ گئے ہیں اور میرے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو اپنے انگوٹھے سے زور سے ملتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دل میں کچھ طاقت پیدا ہوگئی ہے۔تو میں اُس وقت طاقت محسوس کرتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ ہاں حضور ہو گئی ہے۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 231-232 روایت حضرت محمد فاضل صاحب) یہ محمد فاضل صاحب ہی فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں قادیان پہنچا ہوں اور مسجد مبارک کے اندر محراب کے پاس کونے میں حضرت اقدس علیہ السلام تشریف فرما ہیں۔مسجد میں بڑی روشنی ہے۔میں حضور کے آگے جا کر بیٹھ گیا ہوں تو حضور مجھے ایک سفید چینی کی پلیٹ جس میں نہایت شفاف سرخ رنگ کا حلوہ ہے اپنے دست مبارک سے دے کر کہتے ہیں کہ یہ کھا لو۔چنانچہ میں نے اُسی وقت اُس کو کھالیا