خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 748 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 748

خطبات مسر در جلد دہم 748 خطبه جمعه فرموده مورخہ 7 دسمبر 2012 ء بندہ سامنے سے آ رہا ہے۔(یعنی یہ کہتے ہیں میں اُن کے سامنے سے آرہا ہوں) حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مخاطب کر کے انگلی کا اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے، یہ خدا کی طرف سے ہے۔یہ تین دفعہ حضور نے فرمایا۔کہتے ہیں جب میں نے 1902ء میں بمقام قادیان دارالامان جبکہ چھوٹی مسجد ہوا کرتی تھی ( مسجد مبارک جبکہ چھوٹی مسجد تھی ) بیعت کی تو اسی حلیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پایا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 5 صفحہ 1 روایت حضرت سردار کرم داد خان صاحب) پھر حضرت کریم الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں جنہوں نے 1896ء میں بیعت کی اور اُسی سال ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔کہتے ہیں کہ 1896ء کے تقریباً نصف حصہ میں بذریعہ خواب بندہ کو ( یعنی کہ ان کو اُس سال کے مئی جون کے قریب ) خواب میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت جبکہ حضور اونٹنی پر سوار تھے، ہوئی۔خواب میں دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اونٹنی پر سوار تشریف لا رہے ہیں) کہتے ہیں پھر بندہ کو حضور کی زیارت بصورت اکیلے ہونے کے جبکہ ایک ایسے کھیت میں سے گزر رہے تھے جو کہ تازہ تازہ جوتا گیا تھا اور جس میں مٹی کے ابھی بڑے بڑے ڈھیلے تھے اور حضور اس میں سے میری طرف کو آ رہے تھے ، ہوئی۔( یعنی یہ بھی خواب بیان کر رہے ہیں) اور حضور نے بڑے تپاک اور محبت سے بندہ سے مصافحہ کیا اور بندہ اس حالت میں بہت خوش ہوا۔خواب ہی میں اس سے پہلے ایک نقشبند پیر سے میری ملاقات ہوئی۔میں نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور اس پیر نے میرے ہاتھ کو پرے ہٹا کر کہا کہ چل بے دین۔(حالانکہ سلام کرنے کا اسلام کا حکم ہے۔بہر حال اس نے بے دین کہہ کر سلام نہیں کیا۔) کہتے ہیں اس کے بعد حضور سے ملاقات ہوئی اور حضور بڑے تپاک سے ملے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ( 5 صفحہ 38 روایت حضرت کریم الدین صاحب) حضرت کریم الدین صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک خواب میں میں نے دیکھا کہ چوہدری نبی بخش صاحب حوالدار پولیس کو جو کہ حضور سے شرف بیعت حاصل کر چکے تھے، الہام ہوتا ہے۔( خواب میں ان کو بتایا گیا، یہ پولیس کے حوالدار جو ہیں، ان کو الہام ہوتا ہے۔یہ آجکل کی پولیس نہیں ہے پاکستان کی یا ہندوستان کی جن کو سوائے رشوت کے اور بے ایمانی کے اور کچھ نہیں آتا۔یہ اُس زمانے کے لوگ تھے جن کا اللہ تعالیٰ سے تعلق تھا۔تو کہتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ ان کو الہام ہوتا ہے)