خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 741
خطبات مسرور جلد دہم 741 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء حالات بتائے ، سب میں نے مولوی صاحب سے بیان کر دیئے۔اور یہ بھی بیان کر دیتا ہوں کہ ان دونوں کے سوائے میں نے حضرت مرزا صاحب کو اپنی پہلی تمام عمر میں کبھی نہ دیکھا تھا اور نہ ہی میں نے قادیان شریف کو ، لہذا اس خواب کے بیان کرنے سے مولوی صاحب نے تعبیر میں یہ فرمایا کہ جو آپ نے باغ اور خشک نہریں اور محل وغیرہ دیکھے ہیں اس سے مراد باغ شریعت ہے اور نہر میں علمائے زمانہ ہیں جو خشک ہو چکے ہیں ان کے پاس کوئی علم نہیں اب رہا۔اصل شریعت ان کے پاس نہیں ہے اور محل اور مکان یہ عمل ہیں اور پیالے سے مراد بھی عمل ہیں جن میں کچھ قصور ہیں جو بیضوی ہیں یعنی سیدھے نہیں ہیں اور خواب میں جو مشرق کی طرف اشارہ ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں سے قادیان خاص مشرق میں ہے اور خواہ حدیث مشرق والی سمجھ لیجئے ، یعنی مسیح مشرق میں اترے گا۔وہ بھی حدیث کا حوالہ بھی دے رہے ہیں کہ چاہے وہ سمجھ لو۔اور وہ بزرگ جس کا آپ نے حلیہ بیان کیا ہے وہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی مسعود ہیں۔اور ہاتھ کے اشارے سے یہ پتہ ہے کہ جب تک ہمارے سلسلے میں داخل نہ ہو گے تب تک شریعت اسلام اور بہشت کے دروازے کا آپ کو راستہ نہ ملے گا۔آپ نے جو نشان مانگا تھا۔یعنی نشان خداوند کریم نے آپ کو دکھا دیا ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کے دن قادیان جانا ہے، آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔اگر آپ کی خواب کے مطابق وہ بزرگ حضرت صاحب ہوئے تو مان لینا ورنہ کوئی جبر نہیں ہے۔الغرض ہم بروز جمعرات قادیان کی طرف روانہ ہو گئے۔جس وقت ہم قادیان میں پہنچے مجھ کو سخت بخار ہو گیا اور مولوی صاحب نے حضرت صاحب سے عرض کیا ہمارا لڑکا جو حق کی جستجو میں یہاں آیا ہے وہ روزہ کے ساتھ تھا اس کو بخار ہو گیا ہے۔حضرت صاحب نے مجھے کو دیکھا اور فرمایا کہ مولوی صاحب! آپ نے اس کو روزہ کے ساتھ سفر کیوں کرنے دیا؟ اگر راستے میں بخار یا کوئی اور مرض ہو جاتی تو آپ کیا کرتے۔یہ قرآنِ کریم کی منشاء کے خلاف ہے۔خیر ہم دوائی بھیج دیتے ہیں۔انشاء اللہ آرام ہو جائے گا۔دوائی آگئی۔معلوم نہیں کہ شاید حامد علی صاحب لے کر آئے۔دوائی میں نے پی لی اور مجھ کو بخار سے بالکل آرام ہو گیا۔اُس وقت میں نے بخار کی بیہوشی میں حضرت صاحب کو اچھی طرح نہ پہچانا تھا۔اگلے روز جمعہ تھا۔ہم وضو کر کے جلدی سے آگے جگہ کے واسطے پہلے ہی چلے گئے اور اول صف میں جگہ مل گئی۔( پہلی صف میں جگہ مل گئی۔اوّل مولوی عبد الکریم صاحب اور بعدہ مولوی صاحب حضرت خلیفہ اول تشریف لائے اور اُن کے بعد حضرت مرزا صاحب تشریف فرما ہوئے اور میں نے دیکھتے ہی آپ کو پہچان لیا کہ یہی میری خواب والا بزرگ ہے اور میں نے اپنے مولوی صاحب کو بھی کہہ دیا کہ یہی بزرگ ابنِ مریم ہیں جو دو دفعہ خواب میں دیکھتے ہیں۔اب مولوی صاحب کی تسلی ہوگئی اور انہوں