خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 729
خطبات مسر در جلد دہم 729 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012 ء امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق صرف جسمانی طور پر آل رسول ہونا نہیں کیونکہ وہ بغیر روحانی تعلق کے بیچ ہے“۔(یعنی یہ اُن کی شان نہیں ہے کہ جسمانی طور پر وہ آل رسول تھے۔اصل چیز روحانی تعلق ہے۔پھر فرمایا اور حقیقی تعلق اُن ہی عزیزوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جو روحانی طور پر اُس کی آل میں داخل ہیں۔رسولوں کے معارف اور انوار روحانی رسولوں کے لئے بجائے اولاد ہیں جو اُن کے پاک وجود سے پیدا ہوتے ہیں“۔( یعنی کہ اصل چیز اُن کی تعلیم اور معارف اور اُن کا جو روحانی نور منتشر ہوتا ہے وہ ہے اور وہی اُن کے ماننے والوں میں اصل چیز ہے ) ''اور جو لوگ اُن معارف اور انوار سے نئی زندگی حاصل کرتے ہیں اور ایک پیدائش جدید اُن انوار کے ذریعہ سے پاتے ہیں وہی ہیں جو روحانی طور پر آل محمد کہلاتے ہیں۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 364 تا 366 حاشیہ) پس ہراحمدی، ہر مسلمان اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنے والا ہے، آپ کے نور سے فیضیاب ہونے والا ہے، آپ کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والا ہے تو آل محمد میں اُس کا شمار ہو جائے گا۔پس یہ وہ حقیقی طریق ہے جس پر ہر مسلمان کے لئے چلنا ضروری ہے کہ ہر بزرگ کے مقام کو پہچان کر اُس کی عزت کریں، اُس کا احترام کریں۔آپس کے جھگڑوں اور فسادوں اور قتل و غارت گری کو ختم کریں۔بعید نہیں کہ یہ سب قتل و غارت گری اور فساد جو ہو رہے ہیں ، مسلمان مسلمان کو جو قتل کر رہا ہے اس میں اسلام مخالف طاقتوں کا ہاتھ ہو جو مسلمانوں میں گروہ بندیاں کر کے، پیسہ دے کر، رقم خرچ کر کے فساد کروا رہے ہیں یا خود بیچ میں شامل ہو کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔اب جو شیعوں پر حملے ہو رہے ہیں یا مسجدوں پر حملے ہورہے ہیں، ان میں اُن تنظیموں کا ہاتھ ہے جنہیں حکومت دہشتگر دکہتی ہے اور دہشتگردوں کے بارے میں یہ بھی حکومتوں کی رپورٹیں ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بعض مسلمان ہی نہیں تھے بلکہ فساد پیدا کرنے کے لئے باہر سے آئے تھے۔اللہ تعالیٰ اُمت پر رحم کرے اور ان کو ایک ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔احمدیوں کو بھی میں کہنا چاہوں گا کہ دوسرے مسلمان فرقے تو ایک دوسرے سے بدلے لیتے ہیں کہ اگر ایک نے حملہ کیا تو دوسرے نے بھی کر دیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر با وجود تمام تر ظلموں کے جو یہ تمام فرقے اکٹھے ہو کر ہم پر کر رہے ہیں، ہمارے ذہنوں میں کبھی بھی بدلے کا خیال نہیں آنا چاہئے۔ہاں کسی بات کی اگر ضرورت ہے تو یہ کہ ہم میں سے ہر ایک ہر ظلم کے بعد نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرے اور پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے دعاؤں میں لگ جائے۔