خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 728 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 728

خطبات مسرور جلد دہم 728 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء پیاروں کا دشمن ہے۔جو شخص مجھے برا کہتا ہے یا لعن طعن کرتا ہے اس کے عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الہی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لانا سخت معصیت ہے۔ایسے موقع پر درگزر کر نا اور نا دان دشمن کے حق میں دعا کرنا بہتر ہے کیونکہ اگر وہ لوگ مجھے جانتے کہ میں کس کی طرف سے ہوں تو ہرگز برانہ کہتے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 544 تا 546 اشتہار نمبر 263 مطبوعه الشركة الاسلامیۃ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” خدا کے پیاروں اور مقبولوں کے لئے روحانی آل کا لقب نہایت موزوں ہے۔“ ( درود شریف میں پڑھتے ہیں ناں الِ مُحَمَّد۔فرمایا کہ روحانی آل کا جو لفظ ہے خدا کے پیاروں اور مقبولوں کے لئے ہے اور وہ اپنے روحانی آل یا اہل بیت کا یعنی حضرت امام حسن حسین کا ذکر کر رہے ہیں کہ ) ” اور وہ روحانی آل اپنے روحانی نانا سے وہ روحانی وراثت پاتے ہیں جس کو کسی غاصب کا ہاتھ غصب نہیں کر سکتا اور وہ اُن باغوں کے وارث ٹھہرتے ہیں جن پر کوئی دوسرا قبضہ نا جائز کر ہی نہیں سکتا۔پس یہ سفلی خیال بعض اسلامی فرقوں میں اُس وقت آگئے ہیں جبکہ اُن کی روح مردہ ہوگئی اور اُس کو روحانی طور پر آل ہونے کا کچھ بھی حصہ نہ ملا۔اس لئے روحانی مال سے لاوارث ہونے کی وجہ سے اُن کی عقلیں موٹی ہو گئیں اور اُن کے دل مکۃ راور کوئہ بہین ہو گئے۔اس میں کس ایماندار کو کلام ہے کہ حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحب کمال اور صاحب عفت اور عصمت اور ائمہ الہدیٰ تھے ( یعنی ہدایت کے امام تھے اور وہ بلا شبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آل تھے۔سو اہلِ معرفت اور حقیقت کا یہ مذہب ہے کہ اگر حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفلی رشتہ کے لحاظ سے آل بھی نہ ہوتے تب بھی بوجہ اس کے کہ وہ روحانی رشتہ کے لحاظ سے آسمان پر آل ٹھہر گئے تھے وہ بلا شبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی مال کے وارث ہوتے۔جبکہ فانی جسم کا ایک رشتہ ہوتا ہے تو کیا روح کا کوئی بھی رشتہ نہیں بلکہ حدیث صحیح سے اور خود قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ روحوں میں بھی رشتے ہوتے ہیں اور ازل سے دوستی اور دشمنی بھی ہوتی ہے۔اب ایک عقلمند انسان سوچ سکتا ہے کہ کیا لا زوال اور ابدی طور پر آل رسول ہونا جائے فخر ہے یا جسمانی طور پر آلِ رسول ہونا جو بغیر تقویٰ اور طہارت اور ایمان کے کچھ بھی چیز نہیں۔اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اہلِ بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان کرتے ہیں“۔( یعنی آپ فرمارہے ہیں کہ روحانی آل ہونے کا مقام اُس سے بہت بڑھ کر ہے جتنا کہ جسمانی آل ہونے کا یا اولاد ہونے کا۔فرمایا: ” کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان کرتے ہیں بلکہ اس تحریر سے ہمارا مدعا یہ ہے کہ