خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 727
خطبات مسر در جلد دہم 727 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء نہیں کہ کسی نادان بے تمیز نے سفیہا نہ بات کے جواب میں سفیہا نہ بات کہہ دی ہو۔جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔بہر حال میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقا در کھتے ہیں کہ یزید ایک نا پاک طبع ، دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا۔اور جن معنوں کی رُو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے، وہ معنی اُس میں موجود نہ تھے۔مومن بننا کوئی امر سہل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے۔قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا (الحجرات: 15) مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اُس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اُس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمالِ فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو ، سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔لیکن بدنصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔دنیا کی محبت نے اُس کو اندھا کر دیا تھا۔مگرحسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا اور بلا شبہ وہ اُن برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اُس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اُسوہ حسنہ ہے۔اور ہم اُس معصوم کی ہدایت کے اقتدا کرنے والے ہیں جو اُس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اُس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اُس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔اور اُس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے اُن کا قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہیں۔(اس) دنیا کی آنکھ اُن کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دُور ہیں۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اُس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے۔اور جو شخص حسین یا کسی اور بزرگ کی جو آئمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اُس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔کیونکہ اللہ جل شانہ اُس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اُس کے برگزیدوں اور