خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 722 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 722

خطبات مسرور جلد دہم 722 پھر سر الخلافہ کا ہی حوالہ ہے۔اس کا اردو تر جمہ یہ ہے کہ: خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012 ء بخدا آپ اسلام کے آدم ثانی اور خیر الا نام کے مظہر اول تھے اور گو آپ نبی تو نہ تھے مگر آپ میں نبیوں اور رسولوں کی قوتیں موجود تھیں۔(سر الخلافۃ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 336) پھر سر الخلافہ میں ہی آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ میں سے سب سے زیادہ بہادر اور متقی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ پیارے ہیں اور فتمند جرنیل ہیں اور سید الکائنات کی محبت میں فنا اور شروع سے ہی آپ کے غمگسار اور آپ کے کاموں میں آپ کے مددگار۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تنگی کے زمانے میں ان کے ذریعہ تسلی دی اور اُنہیں صدیق کے نام سے مخصوص کیا گیا۔وہ نبی دو جہان کے مقرب بنے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ثانِيَ اثْنَيْنِ کی خلعت سے نوازا اور اپنے خاص بندوں میں شامل کیا۔سر الخلافة - روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 339) پھر ایک جگہ آپ ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں خلیفہ اول نے جو بڑے ملكُ التَّجار تھے مسلمان ہو کر لانظیر مدد کی اور آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ صدیق کہلائے اور پہلے رفیق اور خلیفہ اول ہوئے۔لکھا ہے کہ جب آپ تجارت سے واپس آئے تھے اور ابھی مکہ میں نہ پہنچے تھے کہ راستہ میں ہی ایک شخص ملا۔اس سے پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔اس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تمہارے دوست نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔ابوبکر نے وہیں کھڑے ہو کر کہا کہ اگر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو سچا ہے۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 365 ایڈ یشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں: ”حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال و متاع خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا اور آپ کمبل پہن لیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر انہیں کیا دیا۔تمام عرب کا انہیں بادشاہ بنا دیا اور اُسی کے ہاتھ سے اسلام کو نئے سرے زندہ کیا اور مرتد عرب کو پھر فتح کر کے دکھا دیا۔اور وہ کچھ دیا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 286 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات اُن کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہو جایا کرتا تھا اور اُن کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے۔