خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 66
خطبات مسر در جلد دہم 66 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء کی خدمت سرانجام دیتے رہے۔متعدد جماعتی کیسز میں خدمت کے علاوہ آپ کو 1984 ء کے ظالمانہ آرڈینس کے خلاف جماعت کی طرف سے شرعی عدالت میں پیش ہونے والے پینل میں بھی شامل ہونے کا موقع ملا۔لاہور میں مختلف جماعتی خدمات بھی آپ کی تھیں۔سیکرٹری رشتہ ناطہ تھے۔ممبر مجلس افتاء تھے۔قاضی جماعت لاہور تھے۔پھر اسی طرح ہیومن رائٹس کمیشن کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق ملی۔28 مئی 2010ء کو جو واقعہ ہوا ہے اُس دن بھی مسجد دارالذکر میں تھے اور ان کا بیٹا بھی ان کے ساتھ ہی تھا۔ان کا بیٹا وہاں فائرنگ سے زخمی ہوا۔آپ بڑی ہمت سے آپ وہاں بیٹھے رہے اور اُس کو بھی ہمت دلاتے رہے۔دعا گو تھے۔بڑے قناعت پسند تھے۔صابر شاکر ، ملنسار، مخلص انسان تھے۔خلافتِ احمدیہ کی خاطر ہر قربانی کے لئے ہمیشہ مستعد رہتے تھے اور ہمیشہ ماحول کے مطابق گفتگو کرتے تھے۔حسن مزاح بھی اُن میں کافی تھی۔یہ موصی بھی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے، مغفرت کا سلوک فرمائے۔ایک اور جنازہ آسام انڈیا کی رابعہ بیگم صاحبہ کا ہے جو مکرم ماسٹر مشرق علی صاحب کی اہلیہ ہیں۔20 جنوری کو کلکتہ میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔بنگال اور آسام کی صدر لجنہ کی حیثیت سے انہوں نے لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی ہے۔اپنے شوہر کے ساتھ سلسلے کے کاموں میں پوری طرح ممد اور معاون رہی ہیں۔مشرق علی صاحب صوبائی امیر بنگال وآسام ہیں۔بیمار ہونے کی حالت میں بھی لمبے سفروں میں ساتھ جایا کرتی تھیں۔بڑی مخلص، نیک، باوفا خاتون تھیں۔ان کے پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ایک ان کے بیٹے عصمت اللہ صاحب ہیں جو جلسے میں بھی نظمیں پڑھتے ہیں۔ایم ٹی اے میں بھی اُن کی کافی نظمیں ہیں۔آجکل جاپان میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھی مغفرت کا سلوک فرمائے۔درجات بلند فرمائے۔ان سب کا جنازہ جیسا کہ میں نے کہا، ابھی جمعہ کے بعد ادا ہوگا۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 17 فروری تا 23 فروری 2012 جلد 19 شماره 7 صفحه 5 تا 9)