خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 67

خطبات مسرور جلد دہم 5 10 67 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرز امسر وراحمد خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012 ء بمطابق 3 تبلیغ 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل : 129) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ یقیناً اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو احسان کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 342) پس یہ تقویٰ ہی وہ بنیادی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے۔اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی جیسا کہ سب نے سن لیا اور ترجمہ بھی میں نے بیان کر دیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا (النحل: 129) یقینا اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ، پہلی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اُن راستوں کو اختیار کیا جو تقویٰ پر لے جانے والے راستے ہیں۔پس اس بات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ دنیا میں دو طرح کے انسان ہیں، ایک وہ جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اعمالِ صالحہ بجالانے والے ہیں اور ہر نیکی یا ہراچھے عمل کو کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔دوسرے وہ لوگ جو گو بعض اچھی باتیں اور نیک کام کر لیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ اُن کے سامنے نہیں ہوتا، یا وہ ہر کام کرتے وقت اس بات کو نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ ہر وقت ہماری نگرانی فرما رہا