خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 712
خطبات مسرور جلد دہم 712 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء بھی۔تین بچے ماسٹرز کر چکے ہیں، ایم ایس سی کر چکے ہیں۔بلکہ ایک بچی پی ایچ ڈی بھی کر رہی تھی۔2007ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکرم حافظ صاحب کو حج پر جانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ان کے جامعہ کے ایک ساتھی مکرم الیاس منیر صاحب جو جرمنی میں مربی سلسلہ ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ حافظ جبرائیل سعید صاحب جامعہ میں مجھ سے ایک سال پیچھے تھے مگر بہت آگے نکل گئے۔انہیں میں نے بچپن میں ہی ایک چھوٹے سے بچے کی شکل میں دیکھا ہوا ہے جب وہ اپنی معصوم عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کے لئے ربوہ کے حفظ کلاس میں داخل ہوئے تھے۔انہیں نہ صرف حفظ قرآن کی سعادت ملی بلکہ نہایت شیریں لحن بھی قدرت نے عطا فرمایا ہوا تھا جس سے جامعہ کے دوران اور اس کے بعد جلسوں کے مواقع پر حاضرین کو محظوظ ہونے کا موقع ملتا رہا۔کہتے ہیں میں نے انہیں بہت قابل اور اپنے کام اور علم پر گرفت رکھنے والا مربی پایا۔مضبوط وجود کے ساتھ ساتھ نہایت اطاعت گزار اور سعادت مند بھی تھے۔کہاں تو وہ کمزور بچے تھے لیکن آہستہ آہستہ جب بڑے ہوئے ہیں، جامعہ سے فارغ ہوئے ہیں تو قد بھی اُن کا تقریباً چھ فٹ کے قریب ہو گیا اور جسم بھی ان کا مضبوط تھا) لکھتے ہیں کہ مرحوم نظام جماعت کو سمجھنے والے اور اُس کی معمولی سے معمولی امر میں بھی پابندی کرنے والے بہت مخلص انسان تھے۔اسی طرح برداشت کا مادہ بھی بہت تھا۔ایک مرتبہ کسی دوست نے افریقن سمجھ کر اس خیال سے کہ انہیں کونسی پنجابی آتی ہے، اُن کے بارے میں بعض ایسے الفاظ ، اُن کی موجودگی میں کسی کو ہدایت دیتے ہوئے کہہ دیئے جو مناسب نہیں تھے۔لیکن انہوں نے باوجود سمجھنے کے انہیں احساس تک نہیں ہونے دیا۔عبدالسمیع خان صاحب ایڈیٹر الفضل لکھتے ہیں کہ حافظ جبرائیل سعید صاحب اور خاکسار 1975ء سے 1982 ء تک جامعہ احمدیہ میں کلاس فیلو ر ہے۔حافظ صاحب نہایت محنتی اور ذمہ دار اور سلسلہ سے محبت رکھنے والے اور اساتذہ کا بہت ادب کرنے والے انسان تھے۔اردو بھی اچھی سیکھ لی تھی اور دیگر کلاس فیلوز کو انگریزی سیکھنے میں مدد کیا کرتے تھے۔انگریزی عربی تقاریر اور مضمون نویسی میں حصہ لیتے تھے، اچھا مقابلہ ہوتا تھا۔ہمیشہ خوشی اور بشاشت ان کے چہرے پر کھیلتی رہتی تھی۔( یقینا یہ خوشی اور بشاشت تو میں نے دیکھا ہے کیسے ہی حالات ہوں ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔کبھی میں نے اُن کو یہ نہیں دیکھا کہ چہرے پر غم کے آثار ہوں۔گھانا میں بھی میں نے اُن کو دیکھا ہے، اس کے بعد یہاں بھی دیکھا ہے ) انہیں کھیل کا بھی بہت شوق تھا اور فٹ بال اچھا کھیلتے تھے۔خدام الاحمدیہ کے کاموں میں عمدگی سے حصہ لیتے تھے۔دوستوں کے ساتھ پرانا تعلق قائم رکھا۔2005ء میں قادیان گئے تو وہاں سب دوستوں کی دعوت کی۔