خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 704
خطبات مسر در جلد دہم 704 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء فرماتا ہے بیشک یہ لوگ اس دنیا سے تو چلے گئے ، اس عارضی ٹھکانے سے تو رخصت ہو گئے ، دنیا کی نظر میں تو مر گئے یا مار لئے گئے یا مارے گئے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ہمیشہ کی زندگی پاگئے۔اس لئے ایسے لوگوں کو مُردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں۔ایسے لوگوں کی اس دنیا سے رخصتی پیچھے رہنے والوں کی زندگی کے سامان کرنے والی ہے۔پس ایسے لوگ جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر زندگی گزارتے ہیں ، اُس کے نام کی سربلندی کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں اور بے خطر ہو کر یہ قربانی دیتے ہیں ، وہ جہاں اپنی دائی زندگی کے سامان کرتے ہیں، وہاں اپنی جماعت ، اپنے دینی بھائیوں کو حقیقی اور دائمی زندگی کے اسلوب بھی سکھانے والے ہوتے ہیں۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ میسی محمدی کے ماننے والوں کی جماعت کے افراد ہی ہیں یا اُن میں سے ایک گروہ اور ایک طبقہ ہے جو ایک طرف تو اشاعت دین اور اسلام کی خاطر مستقل مزاجی سے اپنی زندگیوں کے ہر لمحے کو گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے اپنی زندگی کے آخری دم تک لڑتے ہیں اور جان دیتے ہیں یا وہ ہیں جو دین کی خاطر اس جرم کی وجہ سے کہ انہوں نے مسیح محمدی کو کیوں قبول کیا ہے ظالموں کے ظلموں کا نشانہ بن کر شہادت کا رتبہ پا کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔آج میں ایسے ہی دو افراد کا ذکر کروں گا۔یعنی ایک خادم سلسلہ اور دوسرا شہید۔ایک نے اپنے بچپن سے وفات تک مسیح محمدی کی فوج میں شامل ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا، اس پیغام کو جس کی اشاعت کی تعمیل کے لئے اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدے کے مطابق آپ کے غلام صادق اور مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا تھا۔پس یہ مخلص اور فدائی خادم سلسلہ جن کا نام حافظ جبرائیل سعید ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی تکمیل کے لئے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ سرگرداں رہے۔ایک جوش اور ایک ولولے سے کام کرتے رہے۔اور یقینا ایک بچے خادم سلسلہ اور حقیقی واقف زندگی کی طرح اپنے وقف کے عہد کو پورا کیا۔وہ خادم سلسلہ جو قادیان اور ربوہ سے ہزاروں میل دور براعظم افریقہ کے ملک گھانا کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا جہاں شاید تعلیم کی بھی صحیح سہولت میسر نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنے باپ کی نیک تمناؤں اور دعاؤں کی وجہ سے اپنے عظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہوئی کامل اور مکمل کتاب کا حافظ بنادیا۔مکمل طور پر اُسے یاد کرنے کی توفیق دی اور نہ صرف حفظ قرآن کے اعزاز سے نوازا بلکہ تفقہ فی الدین یعنی دین کا فہم حاصل کرنے والوں کی صف میں کھڑا کر کے