خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 65

خطبات مسرور جلد و هم 65 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء چوراسی (84) شہید ہوئے تھے تو ان لوگوں کا خیال ہو گا کہ شاید جماعت کے حوصلے پست ہوں گے۔لیکن مردوں اور عورتوں اور بچوں کے مجھے خط آئے کہ ہمارے حوصلے پہلے سے بڑھتے ہیں اور قربانیاں دینے کے لئے یہ درخواستیں تھیں کہ دعا کریں ہم بھی قربانی دینے والوں میں شامل ہوں اور صرف باتیں ہی نہیں ہیں بلکہ عملاً ہر جگہ سے اظہار کیا ہے۔گزشتہ ماہ لیہ میں بھی ایک خاتون شہید ہوئی ہیں اُن کا میں نے جنازہ پڑھایا تھا اور یہ ایسی شہادت تھی کہ لوگوں نے مشن ہاؤس پر حملہ کیا ، اور وہاں کی جماعت والے جب دفاع کے لئے آگے آئے ہیں تو مردوں کے ساتھ یہ عورتیں بھی شامل تھیں اور یہ ایک جوان عورت جس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اس موقع پر جب دشمنوں نے حملہ کیا تو یہ ہلاک ہو گئیں۔کسی قسم کا کوئی خوف اور کوئی ڈر نہیں تھا اور بڑی خوشی سے مقابلہ کرتے ہوئے اس خاتون نے بھی جام شہادت نوش کیا۔پس یہ وہ احمدی عورتیں ہیں اور مرد ہیں اور بچے ہیں جو قربانیوں سے کبھی نہیں ڈرتے۔پس آج شہید ہونے والے یہ جو ہمارے صاحبزادہ داؤد صاحب ہیں، ان کی شہادت کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ان کی نیکیوں کو ، نیک فطرت کو قبول کرتے ہوئے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو جماعت مبائعین میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی تھی اور پھر یہ بھی توفیق دی کہ انہوں نے شہادت جیسا رتبہ پایا۔یہ اُس ایمان کی پختگی اور قربانی کا تسلسل ہے جو جماعت احمدیہ پچھلے ایک سوسال سے زائد عرصے سے دیتی چلی آرہی ہے۔اور جس کی ابتداء اس شہید کے، جس کا جنازہ آج ہم پڑھ رہے ہیں، اس کے پڑنا نا صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں کی تھی۔پس آج حضرت صاحبزادہ صاحب کی روح اس بات پر ایک مرتبہ پھر خوش ہوگی کہ اُن کے خون نے سوسال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اپنے فرض کو نبھایا ہے۔پاکستان میں احمدیوں کے حالات آجکل بد سے بدتر ہورہے ہیں، زیادہ سے زیادہ خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس لئے پاکستانی احمدیوں کے لئے بہت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ اُن کو ہر لحاظ سے محفوظ رکھے۔ہر شر سے بچائے اور دشمنوں کی جلد پکڑ کے سامان پیدا فرمائے۔دوسرا جنازہ جو ہے ہمارے ایک مخلص دوست مکرم مرز انصیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور کا ہے جو 25 دسمبر کو فوت ہوئے تھے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔انہوں نے 1948ء میں بیعت کی تھی۔پھر فرقان بٹالین میں شامل ہوئے۔1974ء میں حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی طرف سے بعض وکلاء کی جو ٹیم بنائی تھی آپ اس کے ممبر تھے اور سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے جماعت کی خدمت کی توفیق ملی اور بحیثیت صحافی ہفت روزہ لاہور میں اپنے کالموں کے ذریعے بھی جماعت