خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 703
خطبات مسرور جلد دہم 703 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا سرور احمد خلیفہ مسیح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012 ء بمطابق 16 نبوت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہرانسان جو دنیا میں آتا ہے اُس کا ایک موت کا دن بھی مقرر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز کو نا ہے لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی خوشخبری دی ہے کہ یہ عارضی دنیا کی زندگی جب ختم ہوگی تو پھر ایک ہمیشہ رہنے والی زندگی شروع ہوگی۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اس دنیا میں اپنے اعمال کرنے والے ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر ترجیح دیں گے وہ اس دائگی اور اُخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے وارث بنیں گے۔اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت انہیں اپنے قرب میں جگہ دے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے وہ کوشش کرتے رہے۔اُنہوں نے اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کی کوشش کی یعنی اُس مقصد کے حصول کی کوشش کی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش کی وسعت کسی انسان کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی وجہ سے بھی اُسے اپنی چادر میں لپیٹ لیتی ہے چاہے اُس نے مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش نہ بھی کی ہو۔لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے ہر وقت اپنی استعداد کے مطابق کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے دین کی سر بلندی اور اشاعت اُن کا صح نظر ہوتی ہے۔جن کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں ہر چھوٹا بڑا رطب اللسان ہوتا ہے۔اُن کے بارے میں تو ہمیں خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔یا پھر ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری دی ہے جو اس کے دین کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شہادت کا رتبہ پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ