خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 699 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 699

خطبات مسر در جلد دہم 699 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 نومبر 2012ء میرا تحریک جدید کا خطبہ جب سنا تو پانچ سو یوروز کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی ادا ئیگی بھی کر دی۔جب انہوں نے تحریک جدید کا چندہ ادا کیا تو ان کو دیگر چندہ جات کی تفصیل بھی بتائی گئی اور کہا کہ چونکہ آپ نے نئی بیعت کی ہے اس لئے آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔جتنا بھی دینا چاہیں دے سکتی ہیں۔لیکن انہوں نے اُسی دن باقی چندے بھی چندہ عام اور جلسہ سالانہ وغیرہ شرح کے مطابق ادا کئے۔سوئٹزر لینڈ سے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ ایک دوست جو کہ نیوشنل جماعت کے صدر ہیں، نیشنل سیکرٹری تحریک جدید بھی ہیں، انہوں نے بتایا کہ جب وہ سوئٹزر لینڈ آئے اور سیاسی پناہ کی درخواست کی تو جلد ہی متعلقہ ادارے نے رڈ کر دی۔اسی دوران تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان ہو گیا۔ان کے پاس اکاؤنٹ میں گل ایک ہزار فرانک کی رقم تھی جو انہوں نے وکیل وغیرہ کے لئے رکھی ہوئی تھی لیکن تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان سن کر وہ ساری رقم خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے چندے میں ادا کر دی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اصل نعم الوکیل تو وہ ہے، وہی ہمارے ٹوٹے کام بنادے گا۔چندے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل کیا اور نہ صرف غیبی طور پر ان کی مدد کی بلکہ اُن کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہوئی اور اُن کو ملک کی شہریت بھی حاصل ہو گئی اور اُن کو کوئی وکیل وغیرہ بھی نہ کرنا پڑا۔کرغزستان سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک کرغز دوست جو مارٹ (Joomart) صاحب نے 2006ء میں بیعت کی تھی۔بہت ہی نیک فطرت نوجوان ہیں۔بیعت کے فوراً بعد ہمارے مبلغ نے چندے کے بارے میں سمجھانے کے لئے اُن سے از راہ مزاح کہا کہ دوسرے لوگ تو اپنی جماعت میں داخل کرنے کے لئے پیسے دیتے ہیں، جبکہ ہماری جماعت میں داخل ہو تو ہم اُس سے پیسے لیتے ہیں۔جس پر انہوں نے کہا کہ ماہانہ تین سو کرغیز چندہ عام ادا کیا کروں گا۔کچھ عرصے کے بعد ہی انہوں نے چارسوکر دیئے۔پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد آٹھ سو کر دیئے۔پھر کچھ مدت کے بعد خود ہی بغیر کسی کے کہنے کے ایک ہزار تم ماہانہ ادا کرنا شروع کر دیا۔جب تحریک جدید کا وعدہ لکھنے لگے تو اُن کو بیعت کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے، انہوں نے ایک ہزار سم لکھوائے۔یہ رقم اُن کی مالی حالت کے لحاظ سے زیادہ تھی۔اُن کو سمجھایا گیا کہ ابھی چھوٹی رقم لکھوا دیں پھر آہستہ آہستہ اس میں اضافہ کرتے رہنا۔خیر اس طرح بہت بحث تمحیص کے بعد پھر انہوں نے اس کو کم کیا۔آئرلینڈ کے صدر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نوجوان جوڑے نے فیصلہ کیا کہ جب ان کی اولا د ہو گی تو وہ اپنی اولا د کو وقف کریں گے۔انہوں نے اپنی اولاد کے لئے نام بھی سوچ لئے لیکن اُن کی اہلیہ