خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 694
خطبات مسرور جلد دہم 694 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 نومبر 2012 ء چار ہزار پانچ سوسٹو ڈنٹس کو کئی لاکھ پاؤنڈ کی صورت میں جماعت نے وظیفہ یا بعض کو قرضہ حسنہ دیا۔اور ان میں سے ساڑھے تین سو (350) سٹوڈنٹس ایسے ہیں جو اعلی تعلیم ایم ایس سی یا پی ایچ ڈی وغیرہ کر رہے ہیں اور جماعت ان کا خرچ برداشت کر رہی ہے۔اس کے علاوہ افریقہ میں پانی ،بجلی ، ریڈیوسٹیشن وغیرہ کے پراجیکٹس ہیں۔یہ سب کام مرکزی گرانٹ سے ہوتے ہیں۔پس یہ جو کام ہیں یہ جماعت کی ترقی کے لئے ہیں۔دنیا کو اسلام کی تعلیم سے روشناس کرانے کے لئے ہیں۔انسانیت کی خدمت کے لئے یہ کام ہیں۔اور یہ سب کام ایسے ہیں جو ان کا موں میں شامل ہونے والوں کو ، جو براہ راست تو ان میں شامل نہیں ہو سکتے لیکن چندوں کی صورت میں شامل ہورہے ہیں اور اس کا حصہ بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پانے والے لوگوں میں شامل ہو رہے ہیں۔بہر حال یہ خیال نہ کریں کہ یہ جوا افریقن ممالک ہیں ان کا انحصار شاید سب کچھ مرکز پر ہی ہے اور وہ خود کچھ نہیں کرتے۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا کافی پراجیکٹس انہوں نے خود بھی کئے ہیں۔اس لئے میں ان کے چند واقعات بھی آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔اپرویسٹ ریجن غانا کی ایک خاتون فاطمہ داؤ د صاحبہ ہیں، انہوں نے خود زمین خریدی اور مسجد کی تعمیر شروع کر دی جس میں تین سو افرادب آسانی نماز ادا کر سکتے ہیں۔اسی طرح اکرا شہر کے قریب لمنارہ (Lomnara) گاؤں میں کافی زیادہ بیعتیں ہوئیں۔چنانچہ وہاں احباب جماعت نے اپنے طور پر مسجد بنائی بلکہ یہ جماعتیں مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی تھیں تو انہوں نے چھ مساجد بنانی شروع کیں جن میں سے چار مساجد مکمل ہو چکی ہیں، اور دوزیر تعمیر ہیں۔ان میں سے ایک مسجد ایک خاتون صادقہ صاحبہ نے اکیلے بنوائی ہے۔اس میں ایک سو پچاس نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں۔اس سے پہلے یہا کر اشہر میں بھی مسجد بنوا چکی ہیں۔احمد جبرائیل سعید صاحب غانا کے مبلغ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ سینٹرل ریجن اکوٹسی (Ekotsi) میں بھی بڑی مسجد تعمیر ہو رہی ہے، اُس کا پچاس فیصد خرچ ہمارے ہائی کورٹ کے ایک حج گؤ اگو جان صاحب ہیں، انہوں نے ادا کیا ہے۔جبرائیل سعید صاحب بھی آجکل بیمار ہیں اور ڈاکٹروں کو اُن کی بیماری کی تشخیص کا بھی صحیح پتہ نہیں لگ رہا۔اُن کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔امیر صاحب فرانس مراکش کے دورے پر گئے تو کہتے ہیں وہاں نو احمدی احباب کو قربانی اور اخلاص سے بھرا ہوا پایا۔اور خلافت سے اُن کو بے انتہا محبت تھی۔اور جب اُن کو مالی قربانی کے بارے میں بتایا گیا اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات پڑھ کر سنائے تو پھر کہتے ہیں کہ