خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 685
خطبات مسرور جلد دہم 685 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء کہ میں آ جاؤں گا مجھے وقت بتادیں۔تو انہوں نے کہا نہیں ، آپ نہیں آئیں گے۔آپ وہیں رہیں جہاں ٹھہرے ہوئے ہیں ، میں آپ کو ملنے کے لئے خود آؤں گا۔پھر جب یہاں آئے ہیں تو پنڈی جماعت کی بڑی فکر تھی۔مستقل رابطہ قائد صاحب سے رکھا ہوا تھا اور اُن کی رہنمائی کرتے رہتے تھے۔تحریک جدید کے بارے میں کہتے ہیں کہ مجھ سے پوچھا۔سال ختم ہو رہا ہے کیسی پوزیشن ہے؟ اُن کی تو وفات ہو گئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی تحریک جدید کی پوزیشن اچھی ہے۔اُس کا اعلان تو میں انشاء اللہ اگلے جمعہ کروں گا۔پنڈی جماعت نے اس میں کافی ترقی کی ہے۔ماشاء اللہ۔دوسری وفات کی جو اطلاع دینی ہے وہ مکرم محسن محمود صاحب کی ہے۔افریقن امریکن احمدی ہیں۔چوراسی سال کی عمر میں 19 اکتوبر کو ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔انہوں نے 1958ء میں بیعت کر کے اسلام احمدیت میں شمولیت اختیار کی تھی اور احمدیت قبول کرنے کے بعد انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بڑے تحمل سے اور استقامت سے ان کو برداشت کیا۔آپ سیکرٹری تبلیغ بھی تھے۔بعد ازاں پندرہ سال سے زائد عرصہ صدر جماعت نیو یارک کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔تبلیغ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔جب کبھی تبلیغی سٹال لگایا جاتا یا لٹریچر کی تقسیم کا پروگرام ہوتا تو اس میں بڑے شوق سے شامل ہوتے بلکہ سارا دن ساتھ رہتے۔صوم وصلوۃ کے پابند، تہجد گزار، انتہائی عاجز ، منکسر المزاج ، بہت محبت کرنے والے شفیق ، خاموش طبع ، ہنس مکھ ، نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک، بردبار، غریب پرور، نیک متقی اور مخلص انسان تھے۔خلافت کے فدائی اور خلیفہ وقت کے ہر اشارہ پر فورا عمل پیرا ہونے والے، نظام جماعت کے اطاعت گزار تھے۔مبلغین سلسلہ سے بہت عزت اور محبت سے پیش آتے۔ہر جماعتی میٹنگ میں حاضر ہوتے اور ساری کارروائی خاموشی سے سنتے۔جب مشورہ مانگا جاتا تو ہمیشہ مفید اور صائب مشورہ دیتے۔بیت الظفر نیو یارک میں ہر سال پھول پودے لگاتے اور پھر سارا سال اُن کی دیکھ بھال کرتے۔مسجد کی صفائی اور آرائش وغیرہ کے کاموں کو سعادت سمجھ کر سر انجام دیتے۔مالی قربانی میں پیش پیش رہتے۔اپنی حیثیت سے بڑھ کر مالی قربانی کیا کرتے تھے۔2005ء میں جب میں نے وصیت کی تحریک کی ہے تو انہیں بھی جب جماعت کی طرف سے وہاں مقامی طور پر شمولیت کے لئے کہا گیا تو پوچھنے لگے کہ کیا آجیلیشن (Obligation) ہیں۔ان کو بتایا گیا کہ قربانی کی شرح دس فیصد ہے، نو کہنے لگے کہ میں تو پہلے ہی اپنی آمد کا ہیں بچیس فیصد چندہ ادا کرتا ہوں۔لیکن بہر حال اس کو انہوں نے