خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 671
خطبات مسر در جلد دہم 671 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء یعنی دعائیں کرنی شروع کر دیں۔اور مقصد یہی تھا کہ مرشد کامل اور سید مل جاوے ( یعنی ایسا پیر ملے جوسید ہو) چنانچہ کافی عرصے تک چلوں اور دردوں کی دھن لگی رہی اور کرتا رہا۔قبرستانوں میں، دریاؤں میں، کنوؤں پر اور پہاڑوں پر، بزرگوں کے مزاروں پر، غرضیکہ رات خفیہ جگہوں پر جا جا کر چالیس چالیس دن چلے گئے۔کچھ نہ بنا۔آخر ایک روز مایوس ہو کر لیٹ گیا اور سو گیا۔نیند میں ایک بزرگ کو دیکھا۔اُس نے تسلی دی کہ بیٹا تمہیں جو مرشد ملے گاوہ سب کا مرشد ہو گا۔اس کے ہوتے ہوئے سب پیرومرشد مات ہوجائیں گے۔یہ نظارہ دیکھ کر دل کو تسلی ہوگئی اور یقین ہو گیا کہ مُرشد کامل انشاء اللہ مل جائے گا۔آخر 1905ء میں ایک رات میں نے دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے جو کہ بالکل صاف اور پاکیزہ کیا گیا ہے، جیسے ایک بہت بڑا جلسہ گاہ ہو۔نہایت صاف اور اس میں ایک سٹیج اونچی اور بادشاہوں کے لائق جس کی تعریف میرے جیسے کم علم سے نہیں ہوسکتی ، تیار ہے۔مجھ کو یہ شخص کہ رہا ہے کہ یہاں آجکل نبیوں علیہ الصلوۃ والسلام کا اجتماع ہے اور رسول کریم یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج اپنے پیارے بیٹے کو تخت پر بٹھانے آئیں گے۔تو میں خوشی میں اچھلتا ہوں اور نہایت تیزی سے دوڑتا ہوا اس میدان میں سٹیج کے عین قریب سب سے پہلے ہانپتا ہوا اور سانس پھولا ہوا پہنچ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ میدان کھچا کھیچ پاک لوگوں ، نورانی شکلوں سے بھر گیا کہ معاسب کی نظریں اوپر کی طرف کو دیکھنے لگیں۔میں نے بھی او پر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہوائی جہازوں کی طرح جھولے نہایت نفیس بنے ہوئے ہیں اور ان میں کسی میں فقط ایک مرد، کسی میں ایک مرد اور ایک عورت یا دو عورتیں اور کسی میں فقط عورتیں یا فقط مرد آسمان سے نہایت آرام سے آ جاتے ہیں۔مجھے خود بخو د معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ فلاں نبی ہے اور یہ فلاں نبی ہے۔اور بہت سی امہات المومنین بھی مثلاً مائی صاحبہ حوا، مائی صاحبہ ہاجرہ و مریم اور بی بی فاطمہ و خدیجہ رضی اللہ عنہا سب تشریف لے آئیں اور سب نبی علیہ الصلوۃ و السلام اور امہات المومنین آکر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے اور اسی طرح انتظار ہونے لگا جیسے جمعہ کے روز قادیان شریف مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے زمانے کی بات کر رہے ہیں ، کہ اُن کا انتظار ہوتا تھا۔اور بعض دفعہ آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہنے لگتے ہیں کہ باپ بیٹا آتے ہی ہوں گے۔کافی دیر کے بعد ایک جھولا اترا جو کہ سب جھولوں سے زیادہ مرضع تھا۔(سجا ہوا تھا۔) اُس میں جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اتر کر سٹیج پر دو کرسیاں ساتھ ساتھ پڑی تھیں، تشریف فرما ہوئے۔پہلے مجھ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت مرزا صاحب مسیح موعود نے السلام علیکم کہا اور پہلے افتتاحی تقریر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور فرمایا کہ