خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 669
خطبات مسر در جلد دہم 669 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء اچانک حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہو گئے۔ہم گواہی دیتے ہیں کہ مرحوم ہر دلعزیز تھے۔نہایت با اخلاق اور مطمئن اور ہر وقت ذکر الہی اور درود شریف میں مصروف رہتے تھے۔دنیا اُن کی نظر میں بالکل بیچ تھی۔غرباء کی مدد کرتے اور صدقات دیتے تھے۔بیعت کے بعد ان کا دل دنیا سے بالکل اُچاٹ ہو گیا تھا۔دوسرا جنازہ مکرم عزت عبدالسمیع محمد جلال صاحب ( مصر ) کا ہے۔ان کی وفات 11 اکتوبر کو ہوئی ہے۔آپ مکرم خالد عزت صاحب (مصر) کے والد تھے۔خالد عزت صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میرے والد عزت عبدالسمیع صاحب 11 اکتوبر کو وفات پاگئے۔میرے والدین شروع میں جماعت کے مخالف تھے لیکن جب میری اپنے شدید مخالف بھائی مکرم محمد سے جماعت کی صداقت پر گفتگو ہوتی تو سن کر کہنے لگے کہ ہم دونوں بھی آپ جیسے مسلمان ہیں۔لیکن بیعت فارم پر دستخط کرنے کی ضرورت نہیں۔2009ء میں والد صاحب کے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی تو انہیں کچھ عرصہ میرے ہاں ٹھہرنے کا موقع ملا۔اس دوران ایم ٹی اے دیکھتے اور میری ملاقات کے لئے آنے والے احمدیوں سے متعارف ہوتے رہے۔اس طرح تسلی ہونے پر خود ہی 2010ء میں بیعت کر لی۔آپ نیک اور صالح اور نماز تہجد کے پابند تھے۔بچوں کو ہمیشہ رزق حلال کھلایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور سنت کی پیروی سکھائی۔کہتے ہیں کہ پہلی بار خاکسار نے اُن کے ساتھ 1998ء میں حج کیا، اُس وقت میں بفضلہ تعالیٰ احمدی ہو چکا تھا۔اللہ تعالیٰ ان مرحومین کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی اپنی اولاد کے بارے میں بھی اور اپنے ہم وطنوں کے بارے میں بھی جو نیک خواہشات تھیں انہیں بھی پورا فرمائے۔افضل انٹر نیشنل مورخہ 16 تا 22 نومبر 2012 جلد 19 شماره 46 صفحہ 5 تا9)