خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 648
خطبات مسرور جلد و هم 648 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء رہتے ہیں اُس کے کئی دروازے ہیں۔عجیب عجیب کہانیاں بنائی تھیں۔اور ہر ایک غرض کے لئے علیحدہ علیحدہ دروازہ تجویز کیا ہوا ہے۔مرزا صاحب کے پاس جب مہمان اندر جاتا ہے تو چونکہ مرزا صاحب کو پہلے ہی اطلاع پہنچی ہوئی ہوتی ہے، آپ جاتے ہی پوچھتے ہیں کہ آپ کا یہ نام ہے اور آپ فلاں جگہ سے فلاں کام کے لئے آئے ہیں، وغیرہ وغیرہ اور ایسی باتوں سے مہمان کو یقین ہو جاتا ہے۔( یہ کہانیاں مشہور تھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں اس لئے انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔) تو لکھتے ہیں ایسی باتوں سے اس مہمان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ یقیناً ولی اللہ ہے جو خود بخودہی سب کچھ بیان کر رہا ہے۔غرض اُس وقت یہ خیال مولوی صاحب کے دل میں بھی تھا۔( یہ جو مولوی صاحب گئے تھے ان کے دل میں بھی یہی خیال تھا ) اور یہ خیال تھا کہ اگر مجھ سے کوئی پوچھے گا تو کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔اسی واسطے آپ سیدھے مسجد میں آئے اور کسی سے کچھ نہیں پوچھا۔( بعد میں خود ہی کہتے ہیں کہ یہ امر غلط ثابت ہوا اور مخالفین کا بہتان۔خیر بہر حال ) چونکہ اُس وقت نماز کا وقت تھا یا نماز ہو رہی تھی ، آپ نے نماز باجماعت گزاری۔بعد از نماز حضرت اقدس شاہ نشین پر رونق افروز ہوئے اور دوسرے احباب ادھر ادھر بیٹھ گئے۔بعد از ملاقات السلام علیکم عرض کرنے کے مولوی صاحب نے چپکے سے حضرت صاحب کے پاؤں پکڑ کر دبانے شروع کئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔(ان کی نیست دبانے کی نہیں تھی ، کچھ اور تھی ، آگے بیان ہوگی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا کے نبیوں کا امتحان لینا اچھا نہیں ہوتا۔فوراً اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں ڈال دیا کہ یہ دبانا اخلاص کا نہیں ہے بلکہ کوئی اور وجہ ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ ) یہ ایک نشان تھا جو حضور کی پہلی ملاقات میں ہی آپ نے ( یعنی مولوی صاحب نے ) ملاحظہ فرمالیا۔اور آپ کو ایمانی روح حاصل کرنے کے لئے مد ہوا۔( بیٹا اپنے باپ کے بارے میں کہہ رہا ہے۔خیر ) الحمد للہ علی ذالک۔پھر لکھتے ہیں کہ بات یہ تھی جناب مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک حدیث یا روایت میں دیکھا تھا کہ حضرت امام مہدی کی صداقت کا ایک نشان یہ ہوگا کہ آپ کے پاؤں میں ( پنجابی میں لکھا ہوا ہے ) لپا یا گڑھا نہیں ہو گا بلکہ سیدھے ہوں گے flat footed جو ہوتے ہیں اُس طرح، زیادہ تلوے میں گڑھا نہیں ہوگا۔تو آپ نے اسی خیال سے حضور کے پاؤں کو پکڑا۔( دبانے کی نیت سے نہیں پکڑا تھا یہ دیکھنے کے لئے کہ گڑھا ہے کہ نہیں) اور اُس کے پکڑنے سے دونشان ملاحظہ فرمائے۔ایک تو یہ کہ حضور کے پاؤں میں حسب ارشاد نبوی فی الواقع وہ گڑھا نہیں تھا۔دوم خود ہی حضور نے فرما دیا کہ خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا