خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 647 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 647

خطبات مسرور جلد دہم 647 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء کی بات نہیں مانی۔حضور نے آپ کے علم کا موازنہ فرما کر اپنی کامل مہربانی سے آپ کو یہ بھی فرمایا (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی باتوں سے اندازہ لگا لیا کہ آپ صاحب علم آدمی ہیں تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب! میں نے ایک کتاب بنام براہین احمدیہ مخالفین کے اعتراضات کے جواب میں لکھی ہے اور اس میں دس ہزار روپے کا چیلنج بھی دیا ہے جو آجکل طبع ہونے والا ہے۔اگر آپ یہاں ٹھہر جائیں اور طباعت کے لئے اس کے پروف دیکھ لیا کریں تو بہت اچھا ہو، اس کا حق الخدمت بھی آپ کو دیا جائے گا۔( جو بھی اجرت بنتی ہے ) یہ مولوی عبدالعزیز صاحب اپنے والد صاحب کے متعلق لکھتے ہیں کہ افسوس کہ آپ نے اُسے تسلیم نہ کیا اور خالی واپس چلے گئے اور اسی انکار پر قریباً پندرہ سولہ برس گزر گئے۔مگر ( تسلیم نہ کیا۔لیکن ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ ) آپ کی فطرت میں بہر حال ایک نیکی تھی۔کہتے ہیں کہ سعادت بھی تھی فطرت میں اور نیکی بھی تھی۔جب کوئی شخص حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو گالی دیتا یا تو ہین سے یاد کرتا تھا تو آپ اُسے رو کتے اور فرماتے کہ خدا تعالیٰ نے تو کفار کے بتوں کو بھی گالی دینے سے منع کیا ہے۔پس یہی یا بعض اور خوبیاں تھیں جو آپ کے وجود میں تھیں اور آپ کی ہدایت کا موجب ہوئیں۔پھر بیان کرتے ہیں غرض اسی خاموشی میں جب وقت گزر گیا۔1902ء کا زمانہ آ گیا۔( پندرہ سولہ سال کا عرصہ گزر گیا اور 1902ء آ گیا۔) اس اثناء میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب جنگ مقدس اور آئینہ کمالات اسلام کا مطالعہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے کئی سوالات کا تو تصفیہ ہو گیا ( جو آپ کے یعنی مولوی صاحب کے ذہن میں سوال اُٹھتے تھے۔یہ دو کتابیں پڑھنے کے بعد بہت سارے سوالوں کا جواب آ گیا لیکن کئی نئے اعتراض بھی پیدا ہو گئے۔چنانچہ آپ نے اکیس سوالات نوٹ کر لئے۔( جو اعتراضات پیدا ہوئے وہ اکیس سوالات کی صورت میں نوٹ کئے ) اور 1902ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مناظرے کے لئے قادیان کو روانہ ہو گئے کہ وہاں جا کر میں مناظرہ کروں گا اور براہ راست مسجد مبارک میں تشریف لائے۔( کسی کو کچھ نہیں بتایا۔وہاں کے رہنے والوں میں سے کسی سے کچھ نہیں پوچھا، سیدھے گئے اور مسجد مبارک میں تشریف لے گئے۔اُس کی بھی ایک وجہ تھی جو آگے بیان ہوگی ) اور کسی نماز کے وقت پہنچے اور نماز باجماعت ادا کی۔) اس لئے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ مشہور یہ تھا کہ مرزا صاحب نے چند ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں جو آنے والے مہمان سے سب کچھ پوچھ لیتے ہیں ، جس طرح پیروں کی عادت ہوتی ہے اور اندر خبر پہنچا دیتے ہیں اور مرزا صاحب جس کمرے میں