خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 59

خطبات مسرور جلد دہم 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012 ء تھے۔ہمارے لئے ایک نمونہ ہوتے تھے اور سچے مسلمان تھے بلکہ مذہبی عالم تھے جیسا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔بی بی سی والوں نے کل رات آدھے گھنٹے کا پروگرام صرف آپ کے بارے میں نشر کیا جس میں آپ کی آواز سنائی گئی ، باتیں سنائی گئیں۔اس میں ڈاکٹر عبد السلام کا بھی ذکر ہوا اور یہ بھی عبد السلام صاحب کے بارے میں بتایا کہ وہ احمدی مسلمان ہیں اور آپ نے قرآن کی وجہ سے نوبل انعام حاصل کیا۔یہ بھی باتیں انہوں نے وہاں کیں۔بی بی سی والوں نے کہا کہ پورے روس کا مصنف ہے نہ کہ تاتارستان کا۔تاتارستان کے نیشنل ٹی وی نے بھی آپ کی وفات کی خبر دی اور اس میں آپ کی حب الوطنی کا ذکر کیا۔آپ قازان اور تا تار قوم سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔اس کاٹی وی والوں نے بھی ذکر کیا اور انٹرنیٹ پر بھی اور ویب سائٹ پر بھی یہ لکھا۔آپ کے بارے میں انٹرنیٹ میں لکھا ہوا ہے کہ وہ احمدی مسلمان ہے اور آپ کے بارے میں اس یوکرائن ویب سائٹ میں، (24/54/http://new۔tatari-kiev۔com/content/view) آپ کا انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں آپ نے احمدیت سے وابستگی کا کھلے طور پر ذکر کیا ہے جس میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ دنیا کا میرا سفر آسٹریلیا سے شروع ہوا جب مجھے وہاں سے عالمگیر جماعت احمدیہ نے لندن بلایا۔یہ جماعت تجدید اسلام کے لئے بنائی گئی ہے۔ان کا ماٹو ” محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں، میرے من کے مطابق تھا اور ان میں کوئی ایسا کام نہ دیکھا جو مخالف اسلام کہا جا سکتا ہو۔کہا جا سکتا ہے کہ حقیقی اسلام احمدیت ہی ہے اور اسلام صرف مولویوں کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہے جو اسے اپنانے کی خاطر متلاشی رہتے ہیں اور اپنے ایمان سے محبت کرتے ہیں۔لکھتے ہیں کہ جب مجھے اپناراستہ مل گیا اور اسلام کی بنیادی تعلیم اور یہاں رہنے اور تر جموں کے دوران انگلش زبان بھی سیکھنے کا موقع ملا تو اس کے بعد جبکہ میں عام زندگی سے کٹ گیا، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مجھے ہر طرف سے کام کرنے کے لئے دعوت نامے آنے شروع ہو گئے۔پہلے کام نہیں ملتا تھا۔احمدیت قبول کرنے کے بعد اور ترجموں کے بعد ایسی برکت پڑی کہ ہر طرف سے دعوت نامے آنے شروع ہو گئے اور مجھے روس میں کئی بار اسلامی کانفرنس میں بھی بلایا گیا۔ایک سوال پر کہ کیا آپ کا کوئی استاد ہے؟ آپ جواب میں فرماتے ہیں کہ والدین کے بعد میرے استاد جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہیں۔ایسا استاد مجھے بہت لیٹ ملا ہے۔کاش کہ میں سال قبل مجھے ایسا استادل جا تا تو میں بہت کچھ کر لیتا۔راویل صاحب اگر چہ بہت سی خوبیوں اور صفات کے مالک تھے لیکن ان کی کچھ خوبیاں جو ان کو