خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 638
خطبات مسرور جلد دہم 638 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء پھر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ قادیان سے واپسی پر بٹالہ پہنچا۔ایک زمیندار ہمراہ تھا۔رات بٹالہ رہا۔زمیندار نے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت صاحب سے اجازت لے لی تھی۔میں نے کہا: نہیں۔مجھے افسوس ہوا کہ اجازت لے کر نہیں آیا۔( کہتے ہیں کہ ) رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور چار پائی پر بیٹھے روٹی کھا رہے ہیں۔مجھے بھی کھانے کا حکم دیا۔نصف حضور نے کھائی ، باقی بندہ نے اور حضور نے فرمایا: جاؤ، آپ کو جانے کی اجازت ہے۔( کہتے ہیں ) بالکل ناخواندہ ( آن پڑھ ) آدمی تھا، زبان میں بھی لکنت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور نظر کی برکت سے اب میں بالکل ، ٹھیک ہوں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔رجسٹر نمبر 1 صفحہ 139۔روایات حضرت عنایت اللہ صاحب) حضرت شیخ عطاء اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں گول کمرہ کے قریب جہاں بابو فخر الدین ملتانی کی دوکان تھی، کھڑا تھا تو حضرت اقدس علیہ السلام خود بنفس نفیس مسجد مبارک کے دروازے پر آئے اور مجھے آواز دی کہ میاں عطاء اللہ ! یہ چٹھی لیٹر بکس میں ڈال دیں۔جس پر میں بڑا خوش ہوا کہ حضور کو میرا نام خوب یاد ہے۔مغرب کے وقت حضور انور ایک معمولی گلاس بکری کے کچے دودھ کا روز مرہ نوش فرماتے تھے۔ایک شخص نے (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ) عرض کیا کہ حضور! کچا دودھ نہ پیا کریں۔تو آپ نے فرمایا کہ اکثر انبیاء علیھم السلام کچا دودھ ہی پیا کرتے تھے۔کچھ عرصے کے بعد جب میں محکمہ ٹیلی گراف میں نوکر تھا۔کہتے ہیں) مجھے بڑا شدید بخار ہو گیا، بلکہ تپ دق سے بھی سخت بیمار ہو گیا۔رخصت لے کر قادیان چلا گیا۔حضرت مولوی نورالدین خلیفہ اسیح الاول کے دولت خانے میں قیام پذیر تھا کیونکہ انہی کے ذریعہ سے میں جموں میں مشرف بہ اسلام ہوا تھا۔اس روحانی اور گہرے تعلق کی وجہ سے خلیفتہ اسیح الاول نے میرا علاج شروع کیا۔مجھے صبح سویرے کھچڑی چاول اور بعد میں ایک ابلا ہوا انڈہ کھلا کر دوائی دیتے تھے۔یہ چیزیں کھا کھا کر جن کی مجھے عادت نہیں تھی زبان کا ذائقہ بگڑ گیا۔کہتے ہیں ایک روز میں نے شام کو محترمہ اماں جان والدہ عبد السلام صاحب ( حضرت خلیفۃ اسیح الاول کی بیگم ) کو التجا کی کہ میری زبان کا ذائقہ خراب رہتا ہے۔اگر کچھ شور بہ یا کچھ اور نمکین چیز ہو تو ذائقہ درست ہو جاوے گا۔انہوں نے فرمایا: مولوی صاحب ناراض ہوں گے۔مگر انہوں نے ایک کپڑے سے مرچوں کو چھان کر اور صاف کر کے مجھے پلا دیا۔یعنی عام شور بہ جو بنایا ہوا تھا، اس کو چھان کے پلایا۔کہتے ہیں اگلی صبح جب حضرت مولوی صاحب خلیفہ امسیح الاول نے میری نبض دیکھی تو فرمایا کہ رات کو کیا کھانا کھایا تھا۔اب ڈاکٹر بڑے بڑے ٹیسٹ لیتے ہیں تب بھی پتہ نہیں لگتا۔لیکن حضرت خلیفہ اول نے نبض دیکھی اور فرمایا