خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 629
خطبات مسرور جلد دہم 629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء پھر فرمایا کہ : ” ہم کو اقرار کرنا چاہئے کہ باوا صاحب نے اُس سچی روشنی پھیلانے میں جس کے لئے ہم خدمت میں لگے ہوئے ہیں ، وہ مدد کی ہے کہ اگر ہم اُس کا شکر نہ کریں تو بلا شبہ ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحه 121 ) ناسپاس ٹھہریں گے“۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے کام اور حضرت با وانا نک صاحب کے کام کو ایک طرح کا قرار دیا ہے۔پس بد بخت ہے وہ جو حضرت باوا نا نک صاحب کے خلاف غلط الفاظ استعمال کرے۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” ہمارا انصاف ہمیں اس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ ہم اقرار کریں کہ بیشک باوانا تک صاحب اُن مقبول بندوں میں سے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے نور کی ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحه 115 ) طرف کھینچا ہے“۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”میں سکھ صاحبوں سے اس بات میں اتفاق رکھتا ہوں کہ بابا صاحب در حقیقت خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے تھے۔پھر آپ فرماتے ہیں اور اب یہ اعلان جماعت کی طرف سے شائع بھی ہوا ہے کہ: ”بابا صاحب در حقیقت خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے تھے اور اُن میں سے تھے جن پر الہی برکتیں نازل ہوتی ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے صاف کئے جاتے ہیں۔اور میں اُن لوگوں کو شریر اور کمینہ طبع سمجھتا ہوں کہ ایسے بابرکت لوگوں کو تو ہین اور ناپاکی کے الفاظ کے ست بیچن روحانی خزائن جلد 10 صفحه 111 ) راجہ رام چندر جی مہاراج اور کرشن جی مہاراج سارے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ساتھ یاد کریں۔مقدس وجود ہیں۔پس یہ اعلان جس نے بھی شائع کیا ہے یا جس نے تصویر بنائی، اس نے یہ سب کچھ شرارت اور فساد پھیلانے کی غرض سے کیا۔وہاں قادیان کی انتظامیہ نے اس کی پر زور تردید اخباروں میں شائع کروائی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے نزدیک حضرت باوا نا نک صاحب کا مقام بہت بلند ہے اور ہم انہیں بڑی عزت و احترام سے دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر قسم کے فساد اور شر سے قادیان کے احمدیوں کو بھی اور اُس کے ماحول کو بھی محفوظ رکھے اور دشمن اپنی شرارتوں میں ناکام و نامراد ہوں۔اس وقت میں بعض فوت شدگان کا بھی ذکر کروں گا اور اُن کے جنازے بھی نماز جمعہ کے بعد