خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 628 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 628

خطبات مسر در جلد دہم 628 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء پھر نہایت گندی اور غلیظ سوچ کا اظہار کرتے ہوئے حضرت باوا نا نک صاحب کے متعلق انتہائی غلط اور گندے الفاظ استعمال کئے اور تصویر کے اوپر لکھے اور ساتھ اُس پر کا ٹا بھی مارا ہوا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تعریفی کلمات لکھ کر پھر مقابلہ بھی کیا کہ یہ اصل ہے اور فلاں ہے فلاں ہے۔اس فعل سے یقینا اس کا مقصد اور نیت بدتھی اور فتنہ و فساد پیدا کرنا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف اور مقام بتا نا اُس کا مقصود نہیں تھا، بلکہ سکھ حضرات کے جذبات بھڑ کا نا تھا۔اور پھر اس سے بھی بڑا اظلم وہاں کی ایک اخبار نے کیا کہ اس طرح اُس نے شائع بھی کر دیا جس پر قادیان اور اردگرد کے علاقوں میں بڑا اشتعال پیدا ہوا۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اُن کے لیڈروں نے عقل اور انصاف سے کام لیتے ہوئے اُن لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا کہ احمدی ایسی حرکت نہیں کر سکتے۔یہ کسی شرارتی اور بدفطرت عنصر نے یقیناً ہمیں لڑانے کے لئے ایسا کیا ہے۔مجھے بھی قادیان سے بعض سکھ خاندانوں کے سر برا ہوں کے خطوط آئے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ کسی نے شرارت کی ہے اور جماعت احمدیہ کی طرف یہ منسوب کی گئی ہے۔یعنی اظہار ایسا لگتا ہے جس طرح کسی احمدی نے لکھا ہے اور جماعت نے یہ اعلان شائع کروایا ہے لیکن جماعت کبھی ایسی بیہودہ حرکت نہیں کر سکتی۔بہر حال اُن لوگوں نے بھی، اُن کی مختلف تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور جماعت نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی تحقیق کروائی جائے اور مجرم کو سخت سزا دی جائے۔جماعت احمدیہ کا تو ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ کبھی کسی کے جذبات سے نہ کھیلا جائے اور مذہبی رہنما تو ایک طرف ہم تو قرآنی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے بتوں کو بھی برا نہ کہو کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں۔اور پھر حضرت باوا نانک صاحب کا مقام اور عزت و احترام جو جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں ہے، اس کے بارے میں کھل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تعریفی کلمات کہے ہوئے ہیں۔اُن کے بارے میں تو کوئی حقیقی احمدی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسے گھٹیا اور گندے کلمات کہے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت باوا نا نک صاحب کے بارے میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ : " ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے باوا صاحب کو حق اور حق طلبی کی روح عطا کی جبکہ پنجاب میں روحانیت کم ہو چکی تھی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بلا شبہ اُن عارفوں میں سے تھے جو اندر ہی اندر ذات یکتا کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔“ پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ ”ہر یک مومن متقی پر فرض ہے کہ اُن کو ( یعنی حضرت باوانا نک صاحب کو ) ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحه 120 ) 66 عزت کی نگاہ سے دیکھے اور پاک جماعت کے رشتہ میں اُن کو شامل سمجھے۔“ ست بیچن روحانی خزائن جلد 10 صفحه 120 )