خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 623
خطبات مسرور جلد دہم 623 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء جمعرات تھی، حضور نے خود فرمایا کہ محمد فاضل بیعت کر لو۔میں نے بیعت کی اور یہ 1899 ء کا آخریا سن 1900 ء کا ابتد ا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 7 صفحہ 233-234 روایت حضرت محمد فاضل صاحب) ย حضرت میاں غلام احمد صاحب بافندہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں پہلے حنفی تھا، پھر وہابی ہوا مگر اطمینان نصیب نہ ہوا۔دل میں خواہش رہتی تھی کہ خدا تعالیٰ حضرت امام مہدی کو مبعوث فرمائے تو اُس کی فوج میں شامل ہو جاؤں۔ایک دفعہ خواب میں مجھے حضرت اقدس کی شبیہ مبارک دکھلائی گئی۔میں قادیان گیا تو ہو بہو وہی نقشہ دیکھا اور بیعت کر لی۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 10 صفحہ 103 روایت حضرت میاں غلام محمد صاحب بافندہ) حضرت حکیم عبد الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں، (اپنے والد صاحب کے بارے میں بیان کیا) کہ اُن کے بیعت کرنے کا واقعہ اس طرح ہے کہ وہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ یہاں ایک مولوی علاؤالدین صاحب رہا کرتے تھے۔اُن کی یہاں قریب ہی ایک مسجد بھی ہے۔میرے والد صاحب اُن کے پاس پڑھا کرتے تھے۔ایک دن عشاء کے وقت وضو کرتے کرتے میرے والد صاحب نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب ، آجکل آسمان سے تارے بہت ٹوٹتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ امام مہدی آنے والا ہے۔آسمان پر اُس کی آمد کی خوشیاں منائی جارہی ہیں۔والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ چند دن کے بعد میں نے حضرت اقدس کا ذکر سنا اور قادیان جا کر بیعت کر لی۔واپس آ کر مولوی صاحب کو بھی کہا کہ میں نے تو بیعت کر لی ہے۔آپ کا کیا خیال ہے؟ مگر وہ خاموش ہو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد آہستہ سے بولے کہ میاں بات تو سچی ہے مگر ہم دنیا دار جو ہوئے۔( یعنی مولوی بھی ہیں، دنیا دار بھی) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 10 صفحہ 121-122 روایت حضرت حکیم عبد الرحمن صاحب) حضرت میاں رحیم بخش صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس روز عبد الحق غزنوی کے ساتھ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا مباہلہ امرتسر میں ہوا میرے والد صاحب اس مباہلہ میں موجود تھے۔وہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ جس وقت حضرت صاحب نے دعا مانگی۔حضرت مولانا نورالدین صاحب کو ششی آگئی اور وہ برداشت نہ کر سکے۔( یعنی انہوں نے بھی بہت رقت سے اور شدت سے دعا کی تو اُس کی وجہ سے حالت خراب ہوگئی ) والد صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب کو دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ یہ زمینی شخص نہیں بلکہ آسمانی ہے۔چنانچہ وہ جب یہاں چونڈہ میں آئے تو انہوں نے آ کر اپنے قبیلے میں اس سلسلے کا