خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 620 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 620

620 خطبات مسرور جلد دہم خطبه جمعه فرموده مورخہ 12 اکتوبر 2012ء پہاڑ سے مراد عظمت اور رفعت ہے۔سورج سے مراد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور چاند سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام بدر کامل ہیں۔اور دریا سے مراد علوم آسمانی ہیں جو مشرق کی طرف سے مغرب کو فیضیاب کر دیں گے اور چاند کا تین فٹ دور ہاتھ سے بلند ہونا ظاہر کرتا تھا کہ تین سال کے بعد احمدیت نصیب ہوگی“۔1898ء میں خواب دیکھی تھی چنانچہ 1901ء میں اُن کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 7 صفحہ 200-202 روایت حضرت قاضی محمد یوسف صاحب) حضرت شیخ محمد افضل صاحب سابق انسپکٹر پولیس پٹیالہ فرماتے ہیں کہ سن 1900ء میں گرمی کا مہینہ تھا کہ ایک خادم مع ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے قادیان بارادہ بیعت گیا۔مغرب کے قریب قادیان پہنچا۔قادیان کے کچے مہمان خانے میں بستر رکھ کر مسجد مبارک میں گیا۔حضرت مرزا صاحب نماز مغرب کے لئے اندرونِ خانہ سے تشریف لائے۔چونکہ کچھ اندھیرا ہو گیا تھا ، بہت فربہ معلوم ہوئے۔کیونکہ خادم شہری آب و ہوا میں پرورش پایا ہے شیطان نے دل میں ڈالا۔موٹا کیوں نہ ہو۔(نعوذ باللہ)۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بارے میں ان کو خیالات آئے کیونکہ اندھیرے کی وجہ سے صحیح طرح نظر نہیں آیا۔شیطان نے دل میں ڈالا کہ موٹے کیوں نہ ہوں۔لوگوں کا ماس خوب کھاتے ہیں۔پھر اندر سے بہت سی عورتوں کے بولنے کی آوازیں آئیں۔پھر دل میں وسوسہ پیدا ہوا، شیطان نے ڈالا کہ اس کی نیک چلنی کا کیا پتہ ہے۔نفس کے ساتھ سخت جدو جہد ہوئی کہ تمام بدن پسینہ پسینہ ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں نفس نئے سے نئے پلید خیالات لاتا تھا۔میں نماز میں دعا کرتا رہا کہ اے خدا! اگر یہ شخص سچا ہے تو میں اس کے دروازہ سے نامراد اور ناکام واپس نہ جاؤں۔مگر دل کی کوئی اصلاح نہ ہوئی۔نماز کے بعد مہمان خانے میں واپس آ گیا اور فیصلہ کیا کہ ایسے حالات میں بیعت کرنا درست نہیں ہے۔یہ یاد نہیں کہ عشاء کی نماز پڑھی یا نہیں اور پڑھی تو کہاں پڑھی۔مغموم حالت میں سو گیا۔رات کے دو یا تین بجے کا وقت ہوگا کہ ایک شخص نے مجھ کو گلے سے پکڑ کر چار پائی سے کھڑا کر دیا۔یعنی خواب میں یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں۔اور اس زور سے میرا گلا دبایا کہ جان نکلنے کے قریب ہوگئی اور کہا تو نہیں جانتا کہ مرزا کون شخص ہے؟ یہ وہ شخص ہے جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اپنے دعوے میں بالکل صادق ہے۔خبر دارا اگر کچھ اور خیال کیا اور مجھ کو چار پائی پر دے مارا۔اور کہتے ہیں کہ ایسی دہشت والی خواب تھی کہ خوفزدہ ہو کے میری آنکھ کھل گئی۔اُس وقت میری آنکھوں میں آنسو تھے اور گلا سخت درد کر رہا تھا جیسے فی الواقعہ کسی نے دبایا ہو۔حالانکہ یہ سب خوابی