خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 619
خطبات مسر در جلد دہم 619 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء ہم پر حقیقت ظاہر کر۔کہتے ہیں کہ میں مشرقی افریقہ سن 1900ء میں ملازمت پر جاتے ہوئے اپنے ایک پرانے دوست مسمی نیک محمد صاحب ساکن سرائے عالمگیر ضلع گجرات کو اپنے ملازم کی حیثیت سے ساتھ لے گیا تھا۔اُن کو تبلیغ کرتے ہوئے میں نے یہ نسخہ بتایا جو اوپر بیان ہوا ہے۔تو انہوں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو خواب میں حسب ذیل نظارہ دکھایا کہ وہ اپنے مکان واقع سرائے عالمگیر میں ہیں اور اُن کا والد مرحوم بھی ہے اور جس کو ٹھڑی میں وہ ہیں وہ حد درجہ روشن ہو گئی ہے اور یہ نظر آ رہا ہے کہ آسمان سے نور کی ایک لہر چل رہی ہے جس نے کوٹھڑی میں نور ہی نور کر دیا ہے۔اور معا ایک بزرگ نہایت خوبصورت ، پاکیزہ شکل ظاہر ہوتے ہیں اور بھائی نیک محمد صاحب کے والد بزرگوار اپنے بیٹے کی طرف مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ یہ امام مہدی ہیں۔اور دونوں باپ بیٹا حضور سے ملے ہیں۔ایسے خوشگن نظارے کے بعد اُن کی نیند کھلی اور دن چڑھے انہوں نے مجھے یہ حال بتایا اور اُن کی بیعت کے واسطے خط لکھنے کے واسطے کہا۔چنانچہ میں نے اُن کی بیعت کا خط لکھا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اُن کا سارا خاندان احمدی ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 4 صفحہ 167-168 روایت حضرت شیخ اصغر علی صاحب) حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب ولد عمر بخش صاحب فرماتے ہیں کہ : میں مدرسہ سنگہونی ریاست پٹیالہ میں ہیڈ ماسٹر تھا۔ماہ بھادوں ( جو برسات کے بعد اگست کا مہینہ ہوتا ہے ) کہتے ہیں اُس وقت موسمی تعطیلات ہوئیں۔مجھے حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کا شوق ہوا۔میرا بچہ عبد الغفار مرحوم دو سال کا تھا۔اُس کے بدن پر پھوڑے نکلے ہوئے تھے جو اچھے نہ ہوتے تھے۔میں اُس کی پرواہ نہ کر کے وہاں سے چل پڑا اور سرہند کے مولوی محمد تقی صاحب کو ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی۔جب میں تقریباً ایک ماہ یہاں گزار کر گھر پہنچا تو میں نے لڑکے کو بالکل تندرست دیکھا۔میری بیوی نے کہا کہ میں نے اس کو نہلا نا چھوڑ دیا تھا ، پھوڑے اچھے ہو گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 7 صفحہ 146 روایت حضرت مولا بخش صاحب) حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فرماتے ہیں: میں نے 1898ء کے قریب ایک رؤیا دیکھی تھی کہ میں ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر رُو بہ مشرق کھڑا ہوں۔میرے دونوں ہاتھ پوری وسعت کے ساتھ شانوں کے برابر پھیلے ہوئے ہیں اور میری دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر سورج کا زریں کرہ بلور کی طرح چمکدار موجود ہے اور چاند کا گرہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر تین فٹ کی بلندی پر آپہنچا ہے۔مشرق سے ایک دریا پہاڑ سے جانب جنوب ہو کر گزرتا ہے اور دریا اور پہاڑ کے درمیان میں وسیع میدان اور سبزہ زار ہے۔بعد میں یہ تعبیر کھلی کہ