خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 618
خطبات مسر در جلد دہم 618 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء یہ جو حضرت مرزا صاحب نے مہدویت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا ہے۔اگر حقیقت میں یہ مدعی صادق ہو۔در آنحالیکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہمارے وطن ہی میں مبعوث فرمایا ہے۔اگر ہم اُن کی شناخت سے محروم رہ جائیں تو کیا ہم اتنی سی تکلیف بھی گوارا نہیں کر سکتے کہ وہاں جا کر اُن کی زیارت تو کریں ( کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہمارے وطن میں مبعوث فرمایا ہے لیکن پھر بھی ہم شناخت سے محروم رہ جائیں اور کوئی تکلیف نہ کریں کہ اُن کی زیارت کریں۔تو ) مولوی صاحب چونکہ سلیم القلب اور حلیم الطبع تھے۔(انہوں نے ) سن کر جواباً فرما یا کہ ضرور جانا چاہئے۔میں نے اُن سے واثق عہد لے لیا، ( مضبوط عہد لے لیا)۔مولوی صاحب چلے گئے اور میں سورہا۔(وہ تو اس کے بعد ، عہد کرنے کے بعد میری بات سن کے چلے گئے لیکن میں سو گیا۔مولوی صاحب اُس مجلس سے اُٹھ کے چلے گئے اور اُس کے بعد کہتے ہیں میں سو گیا۔کہتے ہیں اُس وقت ) میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا خوشنما مکان ہے، اس کے غالباً چار دروازے ہیں اور اس کا رُخ جنوب کی طرف ہے اور اُس کی شرقی طرف ایک میدان ہے جس میں ایک بڑا مجمع معززین کا جو سفید پوش اور فلکی صفات معلوم ہوتے ہیں، حلقہ باندھ کر بیٹھے ہیں، اُن کی تعداد تقریباً یک صد سے تجاوز ہو گی۔اُن کے درمیان میں بیٹھا ہوں۔دفعتہ اس مکان کے شرقی دروازے سے ایک نورانی شکل سفید ریش اور سفید دستار بشروں کی چمک ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے، باہر نکلے اور اس جماعت کی طرف رُخ کیا ہے۔تو اُس جماعت کے درمیان میں میں کھڑا ہوا ہوں۔تو اُس نورانی وجود نے میری طرف انگشت شہادت کا اشارہ کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے سارے گناہ بخش دیئے ہیں۔معا میرے دل میں ڈالا گیا کہ آپ یعنی وہ بزرگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کہتے ہیں اس پر میری زبان پر درود شریف جاری ہو گیا اور میں بیدار ہو گیا اور میرے دل میں اس قدر سرور پیدا ہوا کہ پھر مجھے نیند نہ آئی۔میں نے اُٹھ کر نماز تہجد پڑھ لی اور دل میں یہ کہا کہ کس وقت صبح ہو اور میں مولوی صاحب کو یہ خواب سناؤں۔صبح کو جب مولوی صاحب تشریف لائے تو فراغتِ نماز کے بعد میں نے اُن کو یہ خواب سنایا تو انہوں نے سن کر فرمایا کہ تو بڑا خوش قسمت ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 7 صفحہ 229-230 روایت حضرت محمد فاضل صاحب) حضرت شیخ اصغر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کر تبلیغ کے سلسلے میں لوگوں کو اس طرف توجہ دلانا بہت مفید ہوتا ہے کہ نماز عشاء کے بعد سونے سے پہلے تازہ وضو کر کے دو نفل پڑھے جاویں اور اُن میں دعا کی جاوے کہ اے ہمارے مولیٰ ! اگر یہ سلسلہ سچا ہے تو