خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 614
خطبات مسرور جلد دہم 614 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء جلسہ کی ڈیوٹیاں با قاعدہ دیتی رہیں۔پھر ان کا ملازموں سے بڑا حسن سلوک تھا، کبھی کسی کو نہیں ڈانٹا۔ان کے بچے کہتے ہیں کہ صدقہ و خیرات میں بھی ہمیں پتہ نہیں لگتا تھا ، بڑی خاموشی سے دیا کرتی تھیں۔چھوٹے سائز کا قرآن شریف تھا روزانہ جب موقع ملتا تھا اُس کو پڑھتی رہتی تھیں۔بچے کہتے ہیں کہ وہ قرآن شریف ہم نے ان کے ہاتھ میں چالیس سال سے دیکھا ہے۔خلافت کے ساتھ بھی بڑا وفا کا اور اخلاص کا تعلق تھا اور بچوں کو نصیحت کی کہ اسی میں خیر و برکت ہے، اس کو جاری رکھنا۔اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔تیسرا جنازہ مکرم چوہدری خالد احمد صاحب کا ہے جو چوہدری محمد شریف صاحب ساہیوال کے بیٹے تھے۔20 ستمبر 2012ء کو جرمنی میں ایک حادثے کے نتیجے میں چند دن قومہ میں رہے اور یکم اکتو بر کو اناسی سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔13 اکتوبر 1933ءکو تلونڈ کی عنایت خان تحصیل پسر ورضلع سیالکوٹ میں یہ پیدا ہوئے۔آپ کے والد چوہدری محمد شریف صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔آپ کے والد تقریباً چالیس سال جماعت احمد یہ ساہیوال اور ضلع ساہیوال کے امیر جماعت بھی رہے۔ان کے دادا حضرت نواب محمد دین صاحب تھے جنہوں نے ربوہ کی زمین کے حصول کے لئے کافی خدمات سرانجام دیں۔آپ چوہدری شاہ نواز صاحب اور مجیدہ شاہ نواز صاحبہ کے داماد تھے جن کو یہاں یو کے میں بھی بہت لوگ جانتے ہیں۔آجکل حلقہ ڈیفنس کراچی کے نائب صدر تھے، دس سال سے نائب صدر تھے۔مرکزی قضاء بور ڈ ر بوہ کے بھی ممبر رہے ہیں۔اسی طرح فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائر یکٹر بھی تھے۔قضاء بورڈ میں بھی رہے۔میں بھی قضاء میں کچھ عرصہ قاضی رہا ہوں تو اُس وقت یہ میرے ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔اللہ کے فضل سے بڑے صائب الرائے تھے۔مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔خلافت کے ساتھ بڑا اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔ہمیشہ جلسہ پر یہاں آتے تھے۔باوجود متمول ہونے کے سادہ مزاج اور ملنسار اور غریب پرور انسان تھے بلکہ ان کے بارے میں کسی نے مجھے ذاتی طور پر بتایا کہ بڑا عرصہ ہو گیا کہ ان کا اپنا ایک بنگالی ملازم تھا۔اُس کو انہوں نے کہیں ذرا تھوڑا ساسخت کہ دیا یا اونچی آواز میں بولے تو شام کو جب گھر آئے تو ان کی بیوی نے کہا کہ ہمارا بنگالی نوکر بڑا افسردہ تھا کہ صاحب نے مجھے ڈانٹا ہے۔تو بیوی کو کہنے لگے کہ اوہو میں نے تو ایسی بات نہیں کی تھی لیکن پھر بھی میں ابھی اُس سے معافی مانگ لیتا ہوں۔اتنی سادگی تھی ان میں۔سندھ میں زمینوں پر غیر قوموں کا ، ہندوؤں کا یہ بڑا خیال رکھتے تھے۔ان کی وفات کا سن کے سب نے کہا ہے کہ ہم تدفین کے لئے ربوہ بھی