خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 56
خطبات مسر در جلد دہم 56 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء اُٹھانے کی ضرورت بھی نہیں تھی، کیونکہ میں کسی کو یہاں جانتا نہیں تھا۔اسی سوچ میں تھا کہ کسی انگریز کا اپنے دوسرے انگریز دوست کو فون ہوگا۔بہر حال جب اُس گھر والی نے گفتگو ختم کی تو اُس نے فون کرنے والے کو بتایا کہ میرے ہاں ایک رشین مہمان آیا ہوا ہے اور کہتے ہیں میں حیران تھا کہ انگریزی طریقے کے مطابق تو کوئی بتانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔بہر حال اس لئے میں اس کو معجزہ سمجھتا ہوں جو ہوا اور اس نے ہونا ہی تھا کہ اچانک مجھے ٹیلیفون کے پاس بلایا گیا اور ٹیلیفون مجھے دے دیا گیا اور دوسری طرف جو شخص فون پر تھا اُس نے دلچسپی ظاہر کی کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور اگلے دن مجھے جماعت احمدیہ کی مسجد میں آنے کی دعوت دی۔اُس نے اپنی گفتگو میں لفظ احمدیت استعمال نہیں کیا۔بہر حال مجھے گھر سے باہر جانے کو دل بھی چاہ رہا تھا۔اس لئے میں نے رضامندی ظاہر کی اور فون رکھ دیا۔کہتے ہیں صبح مجھے گاڑی لینے آگئی۔جس نے مجھے مسجد پہنچادیا جو پیٹی کے علاقے میں واقع تھی۔تو سب سے پہلی چیز جوئیں نے وہاں دیکھی وہ جماعت احمدیہ کا سلوگن تھا محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں۔“ کہتے ہیں مجھے شروع ہی سے اسلام میں دلچسپی تھی۔اس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔اس لئے میں نے باقی تمام کام چھوڑ کر جماعت احمدیہ کی کتب کا رشین میں ترجمہ کرنا شروع کیا جس کے لئے مجھ سے درخواست کی گئی تھی۔میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملا اور دو گھنٹے کی دلچسپ گفتگو کے بعد محسوس کیا کہ ہم دونوں دنیا کو تقریباً ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ہماری اس گفتگو میں میرے لئے بہت سی نئی باتیں تھیں۔خیر کہتے ہیں اُس کے بعد میں اس کام میں حجت گیا اور اس بارے میں گو مجھے زیادہ سمجھ نہیں آئی لیکن بہر حال ٹرانسلیشن انہوں نے شروع کر دی۔میں نے یہی سوچا تھا کہ بس کتابوں کا ترجمہ کروں گا لیکن ان کتابوں کا مضمون اس قدر صاف اور خوبصورت تھا اور با معنی تھا کہ تھوڑے ہی عرصے میں میں مطمئن ہو گیا۔میرا جماعت میں شامل ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی جو مجھے لے کے آئی۔پھر اس ملاقات کے بعد جیسا کہ ہے ان کو تراجم کا کام دیا گیا۔ان کو یہاں اسلام آباد ٹلفورڈ میں رہائش مہیا کی گئی۔کہتے ہیں وہاں کھلی پر فضا جگہ تھی اور مجھے ایک کمرہ اور گھر وغیرہ دے دیا گیا۔وہاں مجھے کام کرنے کا مزہ بھی آیا اور بڑی خوشی ہوئی۔پھر لکھتے ہیں کہ اسلام آباد میں پہلے چار ہفتے میں نے دل و جان سے کام کیا۔یہاں تک کہ بہت کم سونے کا موقع ملا اور چار کتابوں کا ترجمہ کیا۔ان کتابوں کا ترجمہ کرتے ہوئے مجھے جماعت کے دعاوی بہت ہی زبردست لگے اور سب سے پیارا دعویٰ جس کا اثر میں نے اپنے اوپر محسوس کیا وہ یہ تھا کہ مستقبل قریب میں اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔