خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد دہم 57 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012 ء پھر یہ لکھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ اس بات کا دعوی کرتی ہے کہ وہی جماعت ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی ایسی جماعت نہیں جسے اس زمانے میں ایک روحانی انقلاب لانے کی ذمہ داری دی گئی ہو۔( یہ انہوں نے رشینز (Russians) کے لئے کتاب لکھی ہے اُس میں لکھا ہے ) اور یہی جماعت ہے جو پوری دنیا کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل کرے گی۔انشاء اللہ۔یہ جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ اُسے بنانے والا وہ مسیح ہے جو پوری دنیا کے لئے مسیح موعود ہو کر آیا ہے۔یہ جماعت پوری دنیا کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے۔دنیا کی مختلف اور طاقتور حکومتوں کو چیلنج دیتی ہے۔اس چھوٹی سی جماعت نے جو چیلنج دیئے ہیں وہ صرف اسلام کی اُس تفسیر کے مطابق ہی نہیں دیئے جو اوائلِ زمانہ میں پائی جاتی تھی بلکہ دنیا کے ہر مذہب کو جس میں عیسائیت بھی شامل ہے، روحانی میدان میں کھلے چیلنج دے رکھے ہیں۔پھر اپنی ایک خواب کا ذکر اپنی اس کتاب میں کرتے ہیں کہ خواب میں میں نے دیکھا کہ میں کازان کی مسجد مرجان کی دوسری منزل پر نماز پڑھ رہا ہوں۔اس جگہ بہت سے لوگ ہیں جو سنتیں ادا کر رہے ہیں اور اُن کے آگے باجماعت نماز کے لئے صفیں باندھی جا رہی ہیں۔اُس وقت میں دیکھتا ہوں کہ باقی سارے لوگ تو محراب کی طرف رُخ کئے ہوئے ہیں، یعنی اُس طرف جس طرف اُن کو رُخ کرنا چاہئے لیکن میں نے ایک کھڑکی کی طرف رُخ کیا ہوا ہے جس میں سے میرے اوپر سورج کی روشنی پڑ رہی ہے۔میں اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میرا رخ اس طرف کیوں نہیں جس طرف باقی سب دیکھ رہے ہیں اور پھر خواب میں ہی کہتا ہوں کہ ہاں! میں تو سفر میں ہوں اور اسلام کی تعلیم کے مطابق مسافر سفر میں نماز پڑھتے ہوئے اُسی طرف دیکھتا ہے جس طرف وہ سفر کر رہا ہوتا ہے۔یعنی اس موقع پر وہاں دیکھنا میرے لئے صحیح تھا جہاں سے روشنی آ رہی تھی۔پھر خواب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نماز با جماعت کے لئے تکبیر کہی جاتی ہے اور میں باقی تمام لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔پھر یہ نظارہ بدلتا ہے۔اچانک میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں تو بالکل برہنہ ہوں اور صرف میرا سر ڈھکا ہوا ہے لیکن وہاں اتنے لوگوں کی موجودگی کے باوجود مجھے کوئی شرم محسوس نہیں ہو رہی۔اس کے علاوہ مسجد کا ماحول بھی غیر معمولی تھا اور اوپر کی طرف گیلری میں تا تاری خواتین سفید رنگ کی چادر میں لئے کھڑی تھیں۔مجھے ان تمام لوگوں کے سامنے اپنی اس برہنہ حالت پر بالکل شرم محسوس نہیں ہو رہی۔جیسا کہ ایک نوزائیدہ بچہ ہوتا ہے۔میرے ذہن میں یہ بات بھی آئی کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کس طرح اس برہنہ حالت میں کھڑا ہوں۔کہتے ہیں میں نے یہ عجیب وغریب خواب حضرت خلیفۃ امسیح الرابع کو سنائی تو مجھے جواب ملا کہ کوئی انسان بھی امید نہیں کر سکتا کہ وہ روحانی طور