خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 605 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 605

خطبات مسر در جلد دہم 605 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء پھر ایک فرنچ فلاسفر لا مانٹین (Lamartine ) اپنی کتاب 'ہسٹری آف ٹرکی (History of Turkey) میں لکھتا ہے کہ : اگر کسی شخص کی قابلیت کو پر کھنے کیلئے تین معیار مقرر کئے جائیں کہ اُس شخص کا مقصد کتنا عظیم ہے، اس کے پاس ذرائع کتنے محدود ہیں اور اس کے نتائج کتنے عظیم الشان ہیں تو آج کون ایسا شخص ملے گا جومحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مقابلہ کرنے کی جسارت کرے۔دنیا کی شہرہ آفاق شخصیات نے صرف چند فوجوں، قوانین اور سلطنتوں کو شکست دی۔اور انہوں نے محض دنیاوی حکومتوں کا قیام کیا اور اُن میں سے بھی بعض طاقتیں اُن کی آنکھوں کے سامنے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئیں۔مگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے نہ صرف دنیا کی فوجوں ، قوانین حکومتوں ،مختلف اقوام اور نسلوں بلکہ دنیا کی کل آبادی کے ایک تہائی کو یکجا کر دیا۔مزید برآں اُس نے قربانگاہوں، خداؤں ، مذاہب ، عقائد، افکار اور روحوں کی تجدید کی۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بنیا د صرف ایک کتاب تھی جس کا حرف حرف قانون بن گیا۔اُس شخص نے ہر زبان اور ہر نسل کو ایک روحانی تشخص سے نوازا۔پھر لکھتا ہے: ”محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک فلسفہ دان، خطیب، پیغمبر، قانون دان، جنگجو، افکار پر فتح پانے والا، عقلی تعلیمات کی تجدید کرنے والا ، بیبیوں ظاہری حکومتوں اور ایک روحانی حکومت کو قائم کرنے والا شخص تھا۔انسانی عظمت کو پر کھنے کا کوئی بھی معیار مقرر کر لیں ، کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بڑھ کر کبھی کوئی عظیم شخص پیدا ہوا؟“ (History of Turkey by A۔De Lamartine, New York: D۔Appleton and Company, 346 & 348 Broadway, 1855۔vol۔1 pp۔154-155) جان ڈیون پورٹ لکھتا ہے کہ : کیا یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس شخص نے حقیر و ذلیل بت پرستی کے بدلے، جس میں اُس کے ہم وطن یعنی اہل عرب مبتلا تھے ، خدائے برحق کی پرستش قائم کر کے بڑی بڑی ہمیشہ رہنے والی اصلاحیں کیں، وہ جھوٹا نبی تھا؟ کیا ہم اس سرگرم اور پُر جوش مصلح کو فر یہی ٹھہر اسکتے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے شخص کی تمام کارروائیاں مکر پر مبنی تھیں ؟ نہیں ، ایسا نہیں کہہ سکتے۔بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بجز دلی نیک نیتی اور ایمانداری کے اور کسی سبب سے ایسے استقلال کے ساتھ ابتدائے نزول وحی سے اخیر دم تک مستعد نہیں رہ سکتے تھے۔جو لوگ ہر وقت اُن کے پاس رہتے تھے اور جو اُن سے بہت کچھ ربط ضبط رکھتے تھے اُن کو بھی کبھی آپ کی ریا کاری کا شبہ نہیں ہوا۔“ (An Apology for Mohammed and the Koran by John Devenport, page 133-134, Chapter: The Koran, printed by J۔Davy and Sons, London, 1882)