خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 600

خطبات مسرور جلد دہم 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء وہ آپ کو اپنے مقصد کے بارے میں، اپنے دعویٰ کے بارے میں، اپنا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے بارے میں تھا، تبھی یہ انقلاب آیا۔وہ کہتا ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر واقعہ آپ کو ایسا حقیقت پسند اور پُر جوش انسان ثابت کرتا ہے جو اپنے مسلمہ عقائد اور نظریات تک آہستہ آہستہ تکالیف برداشت کرتے ہوئے پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔(Mohammed and Mohammedanism by R۔Bosworth Smith, Smith Elder and Co۔London 1876,page 127) پھر آگے لکھتے ہیں کہ یہ کہنا کہ عرب کو انقلاب کی ضرورت تھی یا بالفاظ دیگر یہ کہنا کہ نئے پیغمبر کے ظہور کا وقت آ گیا تھا۔اگر ایسا ہی تھا تو پھر حضرت محمد ہی وہ پیغمبر کیوں نہ ہوں؟ اس موضوع پر موجودہ زمانے کے مصنف سپر نگر نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آمد سے سالہا سال قبل ایک پیغمبر کے ظہور کی توقع بھی تھی اور پیشگوئی بھی تھی۔(Mohammed and Mo hammedanism by R۔Bosworth Smith, Smith Elder and Co۔London 1876, page 133) پھر آگے یہی Bosworth ہی بیان کرتا ہے کہ : ” مجموعی طور پر مجھے یہ حیرانی نہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مختلف حالات میں کتنے بدل گئے تھے۔بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ آپ کی شخصیت میں کتنی کم تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔صحرائی گلہ بانی کے ایام میں ( یعنی جب بھیڑیں چراتے تھے ) شامی تاجر کے طور پر، غار حرا کی خلوت گزینی کے ایام میں ، اقلیتی جماعت کے مصلح کی حیثیت سے، (جب مکہ میں تھے ) ، مدینہ میں جلا وطنی کے ایام میں، ایک مسلمہ فاتح کی حیثیت سے، یونانی بادشاہوں اور ایرانی ہر قلوں کے ہم مرتبہ ہونے کی حالت میں ہم آپ کی شخصیت میں ایک غیر متزلزل استقلال کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔کہتا ہے کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ اگر کسی اور آدمی کے خارجی حالات اس قدر زیادہ بدل جاتے تو کبھی اُس کی ذات میں اس قدر کم تبدیلی رونما ہوتی۔حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خارجی حالات تو تبدیل ہوتے رہے مگر ان تمام حالتوں میں مجھے اُن کی ذات کا جو ہر ایک جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔“ (Mohammed and Mohammedanism by R۔Bosworth Smith, Smith Elder and Co۔London 1876, page 140-141) واشنگٹن ارونگ ( Washington (Irving) اپنی کتاب ”لائف آف محمد“ میں لکھتا ہے کہ :