خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 585
خطبات مسرور جلد دہم 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ غلط طریق دنیا کا امن برباد کر رہا ہے، تا کہ جس حد تک ممکن ہو ان کے ظالمانہ رویے کی حقیقت سے ہم دنیا کو آگاہ کر سکیں۔یہاں یو کے میں اور کامن ویلتھ ملکوں میں کوئین کی ڈائمنڈ جوبلی گزشتہ دنوں منائی گئی تھی۔اس حوالے سے تقریباً سارا سال ہی شور پڑا رہا ہے اور پڑ رہا ہے یا اس کا ذکر چل رہا ہے۔اب بھی اس طرف توجہ ہے۔ملکہ وکٹوریہ کی جب ڈائمنڈ جوبلی ہوئی تھی تو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لہ قیصریہ کے نام سے کتاب لکھ کر ملکہ کو بھجوائی تھی جس میں جہاں ملکہ کی انصاف پسند حکومت کی تعریف کی تھی وہاں اسلام کا پیغام بھی پہنچایا تھا اور دنیا میں امن کے قیام اور مختلف مذاہب کے آپس کے تعلقات اور مذہبی بزرگوں اور انبیاء کی عزت و احترام کی طرف بھی توجہ دلائی تھی۔اور یہ بھی تفصیل سے بتایا تھا کہ امن کے طریق کیا ہونے چاہئیں۔اب جب ملکہ الزبتھ کی ڈائمنڈ جوبلی ہوئی ہے تو تحفہ قیصریہ کا ترجمہ پرنٹ کر کے خوبصورت جلد کے ساتھ ملکہ کو بھجوایا گیا تھا۔ملکہ کا جو متعلقہ شعبہ ہے جس کو یہ کتاب تحفہ کے طور پر جا کے دی گئی تھی اور ساتھ میرا خط بھی تھا، اُن کی طرف سے مجھے شکریہ کا جواب بھی آیا ہے اور یہ بھی کہ ملکہ کی کتابوں کی جو collection ہے وہاں رکھ دی گئی ہے اور ملکہ اس کو پڑھے گی۔بہر حال پڑھتی ہے یا نہیں لیکن ہماری جو ذمہ داری تھی ہم نے ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔اس وقت بھی دنیا کی بدامنی کے وہ حالات ہیں جو اُس زمانے میں بھی تھے بلکہ بعض لحاظ سے بڑھ رہے ہیں اور یہ لوگ اسلام پر حملہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ، آپ کا استہزاء کرتے چلے جارہے ہیں اور بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کی تشہیر کی آج بھی بہت ضرورت ہے۔اس لئے اس میں امن اور مذہب کے احترام کا جو حصہ ہے اور پھر یہ بھی دیا ہوا ہے کہ کانفرنسیں بھی منعقد ہونی چاہئیں اور کس طرح ہونی چاہئیں یہ سارے حصے اکٹھے کر کے ایک پمفلٹ کی شکل میں چھاپ کر یہاں بھی اور دنیا میں بھی تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔اس پر بھی فوری کام ہونا چاہئے۔یہ دو تین ورقہ پیغام بنے گا، زیادہ سے زیادہ چار پانچ ورقے بن جائیں گے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انبیاء کا ذکر فرماتے ہوئے یہ مثال دی ہے کہ اگر کسی حکومت کے نام پر کوئی جھوٹا قانون بنا کر اس کی طرف سے پھیلائے اور اپنے آپ کو حکومت کا کارندہ ثابت کرے یا کرنے کی کوشش کرے تو حکومت کی مشینری حرکت میں آتی ہے اور ایسے شخص یا گروہ کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف غلط باتوں کے منسوب ہونے کو برداشت