خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 584

خطبات مسرور جلد دہم 584 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء کی کتاب Life of Muhammad sa جو انگریزی میں چھپی ہوئی ہے۔اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصنیف سیرة خاتم النبیین کا کچھ حصہ انگلش میں ترجمہ ہو گیا ہے، باقی بھی وکالت تصنیف کو چاہئے کہ جلدی ترجمہ کرا کے شائع کرائیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہاLife of Muhammad sa جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی کتاب ہے، یہ ایک مختصر سی کتاب ہے جس میں سیرت کے تمام پہلوؤں کو مختصر طور پر گور (Cover) کیا گیا ہے۔اصل میں یہ دیباچہ تفسیر القرآن کا ایک حصہ ہے۔اس کا کچھ حصہ جس میں تاریخ بھی بیان ہوئی ہے اور سیرت بھی بیان ہوئی ہے۔یہ تقریباً، تقریباً کیا سارا ہی دیباچہ کا وہ حصہ ہے جو سیرت اور تاریخ سے متعلقہ ہے۔بہر حال اس کا اُتنا حصہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے متعلق ہے اس کو پڑھنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو اجاگر ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔اس کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہونی چاہئے۔وکیل اشاعت اور تصنیف مجھے رپورٹ کریں کہ کس کس زبان میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔اگر سٹاک میں نہیں ہے تو فوری اس کی اشاعت بھی کروائیں۔میرا خیال ہے جرمن زبان میں بھی اس کا ترجمہ ہے اور فریج میں بھی شاید ہے۔بہر حال یہ رپورٹ دے دیں۔دنیا کے سامنے ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے خوبصورت پہلوؤں کو رکھنا ہے، یہ ہمارا کام ہے اور اس کو ہمیں بہر حال ایک کوشش کر کے سرانجام دینا چاہئے۔آج یہ کام ایک لگن کے ساتھ صرف جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے ، اس کے لئے ہر طرح کے پروگرام کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں۔سیمینار بھی ہوں، جلسے بھی ہوں اور ان میں غیروں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں بلائیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ میرا گزشتہ خطبہ ہر زبان میں ترجمہ کر کے ایک چھوٹے سے پمفلٹ کی صورت میں بنا کر ایک مہم کی صورت میں اس طرح تقسیم کر دیں، جس طرح پہلے امن کے حوالے سے لیف لیٹنگ ہوئی تھی۔لیکن اس کام کو زیادہ دیر نہیں لگنی چاہئے۔ہفتہ دس دن کے اندر اندر یہ کام ہوسکتا ہے اور کرنا چاہئے۔بڑے ممالک میں اس کی اشاعت کا کام بڑی آسانی سے ہوسکتا ہے۔یہ لوگ تو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے اور نہ آئیں گے۔عمومی طور پر مسلمان جو ردعمل دکھا رہے ہیں ، اس کو لے کر لگتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے دلوں کو مزید زخمی کرنے کے درپے ہیں۔اپنی خبیثانہ حرکتوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں پھیلاتے چلے جارہے ہیں۔اب دو دن پہلے پین کے کسی اخبار نے بھی یہ خاکے بنائے تھے اور شائع کئے ہیں اور یہ کہا ہے کہ یہ تو مذاق ہے اور یہ مسلمانوں کے رد عمل کا جواب بھی ہے۔پس ہمیں ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے اور کم از کم شرفاء اور پڑھے لکھے لوگوں کو بتانے کے لئے