خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 576 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 576

خطبات مسر در جلد دہم 576 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء خدا نے فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل : 16)۔اور تو بہ کرنے والے امان پائیں گے۔اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں اُن پر رحم کیا جائے گا۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ ہر گز نہیں۔انسانی کاموں کا اُس دن خاتمہ ہوگا۔یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک اُن سے محفوظ ہے۔اے یورپ ! تو بھی امن میں نہیں۔اور اے ایشیا! تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اُس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا۔مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سُننے کے ہوں سُنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔۔۔فرمایا ” نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔اور جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مُردہ ہے نہ کہ زندہ۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ نمبر 269-268) اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی عقل دے۔مکروہ اور ظالمانہ کاموں کے کرنے سے بچیں۔اور ہمیں بھی اللہ تعالیٰ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔66 میں نماز جمعہ کے بعد دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔اس وقت دو شہداء کے جنازے ہیں۔پہلے شہید ہیں عزیزم نوید احمد صاحب ابن مکرم شاء اللہ صاحب جن کو 14 ستمبر 2012ء کو کراچی میں شہید کردیا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ نوید احمد صاحب ابن ثناء اللہ صاحب کے خاندان میں سب سے پہلے ان کے دادا عبدالکریم صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔بیعت سے پہلے آپ کا تعلق امرتسر سے تھا مگر بیعت کے بعد آپ کا زیادہ وقت قادیان میں ہی گزرا تقسیم کے بعد پاکستان میں آپ کا خاندان محمود آباد سندھ میں مقیم ہوا۔پھر 1985ء میں کراچی شفٹ ہو گئے۔عزیزم نوید احمد کے والد ثناء اللہ صاحب کو 1984ء میں اسیر راہ مولیٰ رہنے کی بھی توفیق ملی۔واقعہ شہادت اس طرح ہے کہ 14 ستمبر 2012 ء کو جمعہ کے دن عزیزم نوید احمد ولد ثناء اللہ صاحب جن کی عمر بائیس سال تھی ، اپنے گھر واقعہ حمیرا ٹاؤن حلقہ گلشن جامی کے سامنے اپنے دو غیر از جماعت پٹھان دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ دو نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر آئے