خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 574

خطبات مسرور جلد دہم 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء وہ جب مدینہ آئی ہیں تو عورتوں نے انہیں وہاں جا کر دیکھا تو سب نے تعریف کی کہ ایسی خوبصورت عورت ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی۔اُس کے باپ کی خواہش پر آپ نے اُس سے پانچ صد در ہم حق مہر پر نکاح کر لیا۔جب آپ اُس کے پاس گئے تو اُس نے کہا کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے ایک بہت عظیم پناہ گاہ کی پناہ طلب کی ہے اور باہر آ گئے اور اپنے ایک صحابی ابواسید کو فرمایا کہ اس کو اس کے گھر والوں کے پاس چھوڑ آؤ۔اور پھر یہ بھی تاریخ میں ہے کہ اس شادی پر اُس کے گھر والے بڑے خوش تھے کہ ہماری بیٹی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی لیکن واپس آنے پر وہ سخت ناراض ہوئے اور اسے بہت برا بھلا کہا۔(ماخوذاز الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثامن صفحه 318-319 ذكر من تزوج رسول الله والله عليه۔۔۔اسماء بنت النعمان دار احياء التراث العربي بيروت 1996) تو یہ وہ عظیم ہستی ہے جس پر گھناؤنے الزام عورت کے حوالے سے لگائے جاتے ہیں۔جس کا بیویاں کرنا بھی اس لئے تھا کہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لکھا ہے اگر بیویاں نہ ہوتیں، اولاد نہ ہوتی اور جو اولاد کی وجہ سے ابتلا آئے اور جن کا جس طرح اظہار کیا اور پھر جس طرح بیویوں سے حسن سلوک ہے، خلق ہے، یہ کس طرح قائم ہو، اس کے نمونے کس طرح قائم ہو کے ہمیں پتہ چلتے۔ہر عمل آپ کا خدا کی رضا کے لئے ہوتا تھا۔(ماخوذ از چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ نمبر 300) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں الزام ہے کہ وہ بہت لاڈلی تھیں اور پھر عمر کے حساب سے بھی بڑی غلط باتیں کی جاتی ہیں۔لیکن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ یہ فرماتے ہیں کہ بعض راتوں میں میں ساری رات اپنے خدا کی عبادت کرنا چاہتا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ مجھے پیارا ہے۔(الدر المنثور في التفسير بالماثور لامام السيوطى سورة الدخان زیر آیت نمبر 4 جلد 7 صفحه 350 دار احياء التراث العربی بیروت 2001ء) پس جن کے دماغوں میں غلاظتیں بھری ہوئی ہوں انہوں نے یہ الزام لگانے ہیں اور لگاتے رہے ہیں، آئندہ بھی شاید وہ ایسی حرکتیں کرتے رہیں، جیسے کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے جہنم کو بھرتا رہے گا۔پس ان لوگوں کو اور ان کی حمایت کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لئے بڑی غیرت رکھتا ہے۔(ماخوذ از تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ نمبر 378)