خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 565 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 565

خطبات مسر در جلد دہم 565 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012 ء جائے گی۔اور پھر اس زندگی کے بعد ایسے لوگوں سے خدا تعالیٰ نبٹے گا۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اُن کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا کام اس رسول پر درود اور سلام بھیجنا ہے۔ان لوگوں کی بیہودہ گوئیوں اور ظلموں اور استہزاء سے اُس عظیم نبی کی عزت و ناموس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ تو ایسا عظیم نبی ہے جس پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں۔مومنوں کا کام ہے کہ اپنی زبانوں کو اس نبی پر درود سے تر رکھیں۔اور جب دشمن بیہودہ گوئی میں بڑھے تو پہلے سے بڑھ کر درود وسلام بھیجیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ و عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - یہی درود ہے اور یہی نبی ہے جس کا دنیا میں غلبہ مقدر ہو چکا ہے۔پس جہاں ایک احمدی مسلمان اس بیہودہ گوئی پر کراہت اور غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے وہاں ان لوگوں کو بھی اور اپنے اپنے ملکوں کے ارباب حل و عقد کو بھی ایک احمدی اس بیہودہ گوئی سے باز رہنے اور روکنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور دلانی چاہئے۔دنیاوی لحاظ سے ایک احمدی اپنی سی کوشش کرتا ہے کہ اس سازش کے خلاف دنیا کو اصل حقیقت سے آشنا کرے اور اصل حقیقت بتائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے خوبصورت پہلو دکھائے۔اپنے ہر عمل سے آپ کے خوبصورت اُسوہ حسنہ کا اظہار کر کے اور اسلام کی تعلیم اور آپ کے اسوہ حسنہ کی عملی تصویر بن کر دنیا کو دکھائے۔ہاں ساتھ ہی یہ بھی جیسا کہ میں نے کہا کہ درود وسلام کی طرف بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ دے۔مرد، عورت ، جوان، بوڑھا، بچہ اپنے ماحول کو، اپنی فضاؤں کو درود و سلام سے بھر دے۔اپنے عمل کو اسلامی تعلیم کا عملی نمونہ بنادے۔پس یہ خوبصورت رد عمل ہے جو ہم نے دکھانا ہے۔باقی ان ظالموں کے انجام کے بارے میں خدا تعالیٰ نے دوسری آیت میں بتا دیا ہے کہ رسول کو اذیت پہنچانے والے یا اس زمانے میں حقیقی مومنوں کا دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے حوالے سے تکلیف پہنچا کر چھلنی کرنے والوں سے خدا تعالیٰ خود نپٹ لے گا۔ان لوگوں پر اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور اس لعنت کی وجہ سے وہ اور زیادہ گندگی میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔اور مرنے کے بعد ایسے لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے رُسوا کن عذاب مقدر کیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ ایسے بد زبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔پس یہ لوگ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ