خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 566

خطبات مسرور جلد دهم 566 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012 ء کی لعنت کی صورت میں اور مرنے کے بعد رُسوا کن عذاب کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچیں گے۔جو دوسرے مسلمان ہیں، ان مسلمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ رد عمل دکھانا چاہئے کہ درود شریف سے اپنے ملکوں، اپنے علاقوں، اپنے ماحول کی فضاؤں کو بھر دیں۔یہ رد عمل ہے۔یہ رد عمل تو بے فائدہ ہے کہ اپنے ہی ملکوں میں اپنی ہی جائیدادوں کو آگ لگائی جائے یا اپنے ہی ملک کے شہریوں کو مارا جائے یا جلوس نکل رہے ہیں تو پولیس کو مجبوراً اپنے ہی شہریوں پر فائرنگ کرنی پڑے اور اپنے لوگ ہی مر رہے ہوں۔اخبارات اور میڈیا کے ذریعے سے جو خبریں باہر آ رہی ہیں، اُن سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر شریف الطبع مغربی لوگوں نے بھی اس حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور کراہت کا اظہار کیا ہے۔وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں لیکن جن کی فطرت میں شرافت ہے انہوں نے امریکہ میں بھی اور یہاں بھی اس کو پسند نہیں کیا۔لیکن جو لیڈرشپ ہے وہ ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ یہ غلط ہے اور دوسری طرف آزادی اظہار و خیال کو آڑ بنا کر اس کی تائید بھی کرتی ہے۔یہ دو عملی نہیں چل سکتی۔آزادی کے متعلق قانون کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔میں نے وہاں امریکہ میں سیاستدانوں کو تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا داروں کے بنائے ہوئے قانون میں سقم ہو سکتا ہے، غلطیاں ہو سکتی ہیں۔قانون بناتے ہوئے بعض پہلو نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں کیونکہ انسان غیب کا علم نہیں رکھتا۔لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔اُس کے بنائے ہوئے قانون جو ہیں اُن میں کوئی سقم نہیں ہوتا۔پس اپنے قانون کو ایسا مکمل نہ سمجھیں کہ اس میں کوئی ردو بدل نہیں ہوسکتا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔آزادی اظہار کا قانون تو ہے لیکن نہ کسی ملک کے قانون میں ، نہ یواین او (UNO) کے چارٹر میں یہ قانون ہے کہ کسی شخص کو یہ آزادی نہیں ہوگی کہ دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرو۔یہ کہیں نہیں لکھا کہ دوسرے مذہب کے بزرگوں کا استہزاء کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کہ اس سے دنیا کا امن بر باد ہوتا ہے۔اس سے نفرتوں کے لاوے ابلتے ہیں۔اس سے قوموں اور مذہبوں کے درمیان خلیج وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔پس اگر قانون آزادی بنایا ہے تو ایک شخص کی آزادی کا قانون تو بیشک بنائیں لیکن دوسرے شخص کے جذبات سے کھیلنے کا قانون نہ بنائیں۔یو این او (UNO) بھی اس لئے ناکام ہورہی ہے کہ یہ نا کام قانون بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا کام کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا قانون دیکھیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوسروں کے بتوں کو بھی برا نہ کہو کہ اس سے معاشرے کا امن برباد ہوتا ہے۔تم بتوں کو برا کہو گے تو