خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 559 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 559

خطبات مسرور جلد دہم 559 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء پانی پھیر دیتی ہے۔اگر ترقی کرنی ہے تو سنجیدگی سے توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم نے یقینا ترقی کرنی ہے۔پس انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالی کے فضل سے دنیا سے جلسے کی مبارکباد کے جو خطوط مجھے آرہے ہیں، ان میں ایم ٹی اے کے کارکنوں کے دنیا میں رہنے والے تمام احمدی بہت زیادہ شکر گزار ہیں کہ اُن کی وجہ سے انہوں نے جلسہ میں شمولیت کی اور باقی پروگرام دیکھے اور اُن کو موقع ملا کہ وہ دیکھ سکیں۔اس مرتبہ جلسے کی کارروائی کے علاوہ جلسے کے وقفے کے دوران میں جو پروگرام ہوئے ہیں، اُن کے معیار اور نفسِ مضمون کی بھی لوگوں نے بہت تعریف کی ہے۔میں نے تو نہیں دیکھے لیکن میرا خیال ہے ریکارڈنگ دیکھوں گا کیونکہ کہتے ہیں بڑے متنوع قسم کے پروگرام تھے اور معیار بھی بہت اچھا تھا۔اللہ تعالیٰ ان تمام پروگرام بنانے والوں اور پروگرام میں شامل ہونے والوں کو جزا عطا فرمائے جنہوں نے ان دنوں میں دنیا ئے احمدیت کو ایم ٹی اے کے ساتھ چمٹائے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ایم ٹی اے العربیہ بھی اپنے لائیو پروگرام دیتا رہا ہے، اس کا بھی بڑا اچھا اثر رہا۔اس مرتبہ جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ ایم ٹی اے کو انٹرنیٹ کے ذریعہ سے بھی وسعت دی گئی ہے اور رپورٹس کے مطابق تین لاکھ افراد سے زیادہ نے انٹرنیٹ کے ذریعہ سے جلسہ کا پروگرام دیکھا ہے۔بہر حال مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کے بیشمار فضل اور احسانات ہوئے ہیں، جلسہ کی برکات کو یہاں شامل ہونے والوں نے محسوس کیا جیسا کہ میں نے کہا اور دنیا میں ایم ٹی اے یا انٹرنیٹ کے ذریعہ شامل ہونے والوں نے بھی محسوس کیا۔اللہ تعالیٰ ان برکات کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے اور ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرمائے جو اُس کے حقیقی شکر گزار ہوتے ہیں۔یہ برکات ہمیشہ رہنے والی ہوں اور آئندہ سال کا جلسہ سالانہ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر برکات لانے والا ہو۔آجکل دنیائے اسلام کے لئے بھی بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔اسلامی ممالک اور امتِ مسلمہ کو بہت دعاؤں میں یا درکھیں۔یہ ایسے جال میں پھنس رہے ہیں اور پھنستے چلے جارہے ہیں جو اپنے لالچوں کی وجہ سے بھی ، خودغرضانہ مفادات کی وجہ سے بھی اور اسلام مخالف قوتوں کی وجہ سے بھی مسلمان اُمہ کو ہر لحاظ سے بے دست و پا کر رہا ہے اور ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔جان بوجھ کر فسادات کے مواقع پیدا کئے جاتے ہیں جس سے مسلمان بجائے ایک صحیح ردعمل دکھانے کے غلط رو عمل دکھا کر اپنے اوپر اور مصائب سہیڑ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو ہر طرح سے محفوظ رکھے۔بہت زیادہ دعا کریں۔اللہ تعالیٰ