خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 553 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 553

خطبات مسرور جلد دہم 553 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء کے دروازوں پر پانی مہیا ہو گیا ہے اور اس پر وہ جماعت کا شکر گزار ہوتے ہیں تو پھر جماعت اس بات پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوتی ہے۔جب ہم کہیں جماعتی ترقی کی رپورٹ سنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو عطا ہونے والے مشن ہاؤسز اور مساجد پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔کہیں ہم ایمان میں ترقی کے حیرت انگیز واقعات سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اُس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔کبھی ہم تعلمیلِ اشاعت دین کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہیا کردہ نظام اور اُس سے بھر پور فائدہ اُٹھانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوتے ہیں کہ اس زمانے میں اُس نے جماعت کو کیسی کیسی سہولتیں مہیا فرما دی ہیں جن کا تصور بھی آج سے ہمیں تیس سال پہلے ممکن نہیں تھا۔کبھی ہم اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر سال کوئی نہ کوئی نیا ملک عطا فرما رہا ہے جہاں احمدیت کا پودا لگ رہا ہے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کے پورا ہونے کو دیکھ رہے ہیں اور اس کے مصداق بن رہے ہیں کہ میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔کبھی ہم لاکھوں کی تعداد میں سعید روحوں کے احمدیت قبول کرنے پر سجدہ شکر بجالا رہے ہوتے ہیں کہ ایک طرف تو مخالف نے طوفانِ بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے، لیکن اُنہی میں سے ایسے لوگ بھی پیدا ہو رہے ہیں جن میں سے قطرات محبت ٹپک رہے ہیں اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے عاشق صادق پر بھی درود بھیج رہے ہیں اور کوئی ظلم اور مخالفت انہیں حق قبول کر سکنے سے نہیں روک سکی۔پھر اس سال جلسہ کی حاضری کا خوف تھا کہ شاید گزشتہ سالوں کی نسبت نصف حاضری ہوگی کیونکہ سکول کھل گئے تھے ، والدین کی مصروفیت ہو گئی تھی ، وہ نہیں آ سکتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی فضل فرمایا اور ہمیں شرمندہ کیا کہ تم جماعت کے افراد کے اخلاص و وفا کو انڈ رایسٹیمیٹ (Under Estimate) کر رہے ہو۔پس کس کس طرح اللہ تعالیٰ کا ہم شکر کریں۔ہر کارکن اور ہر شامل ہونے والا اس بات پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہے کہ جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا بلکہ بعض تو ہمیں لکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ بہتر لگا ہے اور ہر لحاظ سے زیادہ بہتر لگا ہے۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ دیکھ کر ہم عبد شکور نہ بنیں۔اور پھر اس بات پر بھی ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ عمومی طور پر ہر شامل جلسہ صحت کی حالت میں رہا اور خیریت سے اپنے اپنے گھروں کو واپس پہنچا۔یہ تو چند باتیں میں نے بیان کی ہیں، ان کی تفصیلات میں جاؤں تو کافی وقت