خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 552
خطبات مسرور جلد دہم 552 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء ختم کرنے پر کمر بستہ ہیں اور کوششیں کر رہی ہیں ، جس طرح اللہ اور رسول کے نام پر بے علم عوام کو ہمارے خلاف بھڑ کا یا جاتا ہے اور خاص طور پر پاکستان میں تو یہ انتہا ہوئی ہوئی ہے، گویا کہ اس وقت مخالفین احمدیت کوئی بھی دقیقہ احمدیت کو ختم کرنے کا نہیں چھوڑ رہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا مسلسل فضل اور نشانات کا سلسلہ نہ ہوتا تو یہ دنیاوی کوششیں کب کی جماعت کو ختم کر چکی ہوتیں۔یہ کم عقل نہیں سمجھتے کہ اس زمانے میں شکر گزاروں کی یہی ایک جماعت ہے جو جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے ہوئے شکر گزاری کے جذبات سے سجدہ ریز ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو مزید کھینچ لاتی ہے اور جب سجدے سے سر اٹھا کر ان فضلوں کو دیکھتی ہے تو دوبارہ حمدوشکر کے جذبے سے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔یہی اُسوہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے کہ اس طرح شکر گزاری کرو۔اور پھر اللہ تعالیٰ جو نہ ختم ہونے والے خزانوں کا مالک ہے ، وہ اپنے انعاموں کو بھی اتارتا چلا جاتا ہے۔پس یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے جاری ہے۔کاش ہمارے مخالفین اس حقیقت کو سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرنا چھوڑ دیں۔اس سال اللہ تعالیٰ نے انعامات کی جو بارش کی ہے، ان میں سے کس کس کا ذکر کیا جائے۔کہاں سے وہ زبانیں لائیں جو خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا حق ادا کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک فقرہ ہے کہ: وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار پس اللہ تعالیٰ کے لئے شکر گزاری کا یہ حق تو ہم ادا نہیں کر سکتے لیکن کوشش ضرور کر سکتے ہیں اور ہمیشہ کرتے چلے جانا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کو ہم حاصل کرنے والے بنتے چلے جائیں۔اللہ کرے کہ نسلاً بعد نسل یہ اہم مضمون ہمارے ذہنوں میں رہے اور ہمارے عمل اس کا اظہار کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر ایک سرسری سی نظر بھی ہم ڈالیں تو ہمیں ایک لمبی فہرست شکر یہ وصول کرنے کے لئے تیار کھڑی نظر آتی ہے، یا ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم شکر یہ ادا کریں۔کہیں رپورٹس سن کر اور پڑھ کر ہمیں جماعت کے تحت چلنے والے سکولوں اور ہسپتالوں کی ترقی شکر گزاری پر مجبور کرتی ہے۔کہیں ہمیں ہسپتالوں سے شفا پانے والے غریبوں کے پرسکون چہرے اور جماعت کے لئے دعائیہ الفاظ شکرگزاری کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔کہیں خدمت انسانیت کے تحت غریبوں کو پینے کا پانی مہیا ہونے پر غریب بچوں کے چہروں کی خوشی اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف لے جاتی ہے۔سات آٹھ سال کے ان بچوں کی خوشی جو اپنے گھروں کے استعمال کے لئے دو تین میل سے پانی لاتے تھے لیکن اب اُن کو اُن کے گھروں