خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 551
خطبات مسر در جلد دہم 551 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء یہ بدقسمتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو خوشی اور انعامات کے وقت بھول جاتا ہے۔پہلے اللہ یا در ہتا ہے اور جب مل جائے تو بھول جاتا ہے۔بعض دفعہ نفس کہتا ہے کہ یہ سب کامیابی تمہاری محنت کی وجہ سے ہوئی ہے۔تمہاری اچھی پلائٹنگ کی وجہ سے ہوئی ہے۔تمہارے کام کرنے والوں کی ٹیم کی وجہ سے ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے قلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (سبا: 14) کہ میرے بندوں میں سے بہت کم شکر گزار ہوتے ہیں۔لیکن حقیقی مومن یقینا اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوتا ہے۔ہم احمدی جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے، ہم تو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں ہیں جو خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور ہونا چاہئے۔ہر فضل پر الحمد لله پڑھتے ہیں اور اُس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے افسران سے لے کر عام کارکن تک کئی ایسے مخلص دیکھے ہیں جو بڑے جذباتی انداز میں آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے اپنی کامیابی کو کام کی بہتری کو اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب کرتے ہیں۔پس جب تک ہم میں ایسے عبد شکور پیدا ہوتے رہیں گے اور ہم عبد شکور بنے رہیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو برستا دیکھتے رہیں گے۔ہماری زبانیں جب تک الحمد للہ کے الفاظ سے تر رہیں گی اور ہمارے دل اُس کے فضلوں پر اُس کے حضور سجدہ ریز رہیں گے ، ہم اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔پس ہر کارکن ، ہر افسر اور جلسہ میں شامل ہونے والا ہر احمدی اور ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا میں جلسہ میں شامل ہونے والا ہر احمدی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ترانے گائے ، اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کرتے ہوئے سجدہ ریز ہو جائے۔جس خلوص سے ہمارے سجدے ہوں گے اور ہم سجدے کرنے والے بنیں گے اور شکر گزار ہوں گے تو اُسی قدر شدت سے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ہم پر بارش ہوگی ، اُسی تیزی سے ہمارے قدم ترقی کی طرف بڑھتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہمیں ادراک ہوگا۔اُن کا فیض ہم پر جاری ہو گا اور یوں اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شکر کرنے والے نئے سے نئے نشانات دیکھتے ہیں۔آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش اور نشانات کا سلسلہ جماعت احمدیہ ہی دیکھ رہی ہے۔ورنہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کی جو انسانی کوششیں ہیں اور جو عددی برتری ہمارے مخالفین ہم پر رکھتے ہیں، جو دولت کے ذخائر ہمارے مخالفین کے پاس ہیں، جو مالی وسائل ، مادی وسائل اُن کے ہیں۔جس طرح حکومتیں ہمیں