خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 545

خطبات مسر در جلد دہم 545 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء تعارف ہوا اور بڑھتا چلا گیا۔ان کی بہن کہتی ہیں کہ میں نے آٹھ سال قبل خواب میں دیکھا کہ ان کو گولی لگی ہے اور ختم ہو گئے ہیں لیکن جب قریب گئی تو کیا دیکھتی ہیں کہ زندہ ہیں۔یقیناً یہ شہادت کا درجہ تھا جو ان کو ملنے والا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا ہے کہ شہید کبھی مرتا نہیں اور نہ تم اس کو مردہ کہو۔اسی طرح ایک خواب ان کی بیٹی نے اور ان کی اہلیہ نے بھی دیکھی تھی۔وہ بھی ان کی شہادت سے تعلق رکھتی ہے۔اہلیہ نے یہ خواب ان کو سنائی تو انہیں تاکید کی کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو تم نے رونا دھونا نہیں۔اسی طرح ان کے واقف بتاتے ہیں کہ اتوار کو احمدیہ ہال کراچی میں میٹنگ تھی، گھر واپس آتے ہوئے راستے میں اپنے دوسرے ساتھیوں کو کہہ رہے تھے کہ موت تو سب کو ہی آنی ہے لیکن میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے شہادت کی موت دے۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند سے بلند فرماتا چلا جائے۔اور ان کی نسلوں میں ہمیشہ خلافت سے وفا کا تعلق قائم رہے۔ان کا ایک بیٹا جامعہ احمد یہ ربوہ میں پڑھ رہا ہے۔دوسرا میٹرک میں چودہ سال کا ہے۔پھر دس سال کی اور ایک سات سال کی بچی ہے۔دوسرا جنازہ غائب جو آج میں پڑھوں گا وہ مکرمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ کا ہے جو حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور حضرت نواب عبداللہ خان صاحب کی بیٹی تھیں۔جون 1927ء میں پیدا ہوئیں اور یکم ستمبر کو طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں ان کا انتقال ہوا۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - آپ کا بچپن قادیان میں گزرا اور بڑے دینی ماحول میں گزرا۔وہیں پرورش پائی۔وہیں تعلیم حاصل کی۔پارٹیشن کے وقت جبکہ آپ کی عمر بیس سال کی تھی قادیان سے ہجرت کر کے لاہور آ گئیں۔قادیان میں بھی کچھ ناصرات میں اور لجنہ میں خدمات کرتی رہیں، یہاں بھی ان کی کچھ خدمات ہیں۔یہ مرز اغلام قادر شہید کی والدہ تھیں۔یہ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں جو میں سمجھتا ہوں بیان کرنا ضروری ہے۔کہتی ہیں کہ غلام قادر شہید کی شہادت کے بعد ایک پرانا مڑا تڑا کاغذ میرے سامنے ہے جو یاد نہیں مگر بارہ پندرہ سال پرانا ہے جس پر ایک دعا لکھی ہے جسے میں نے شعروں میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی۔مگر میں شاعرہ نہیں ہوں۔جذبات میں بہہ کر کہنے کی کوشش کی تھی مگر کہ نہ سکی۔اس دعا کے دو اشعار درج ہیں۔(وہ یہ شعر ہیں کہ ) ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوں آب و تاب میں چمکیں آسمان پر جیسے کہ ہوں ستارے نسلوں میں ان کی پیدا اہل وقار ہوویں التجا ہے میری کر لے قبول پیارے