خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 539
خطبات مسرور جلد دہم 539 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء حَيْثُ لا يحتسب۔جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اُس کے لئے مخلصی کا راستہ نکال دیتا ہے اور اُس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اُس کے علم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔فرمایا یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔مثلاً ایک دوکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ دروغ گوئی یا جھوٹ کے سوا اُس کا کام نہیں چل سکتا۔اس لئے وہ دروغ گوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کی مجبوری ظاہر کرتا ہے۔لیکن یہ امر ہر گز سچ نہیں۔اللہ تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہو جاتا ہے اور اُسے ایسے مواقع سے بچالیتا ہے جو خلاف حق پر مجبور کرنے والے ہوں۔فرمایا کہ یا درکھو، جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا تو خدا نے اُسے چھوڑ دیا۔جب رحمان نے چھوڑ دیا تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 8 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس ایک احمدی کو ہر سطح پر اور ہر جگہ پر اپنے سچائی کے معیار بھی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مثلاً آجکل بہت سے احمدی اسائلم کے لئے یورپین ملکوں میں آ رہے ہیں اور بعض دفعہ بعض لوگ غلط بیانی بھی کرتے ہیں۔حالانکہ اگر سچی بات بتائی جائے ، پاکستان میں احمدیوں کے حالات بتا کر پھر اپیل کی جائے تو تب بھی اثر پیدا ہوتا ہے۔میں نے تو جنہیں بھی سچ بات کہنے کے لئے کہا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ وکیلوں کو کہانیاں نہ بنانے دینا بلکہ سچی بات اور جو تمہارے جذبات اور احساسات ، اور جو حالات ہیں وہ بتانا۔تو اُن لوگوں کے کیس بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاس ہوئے ہیں۔پاکستانی احمد یوں پر ظلم ہور ہے ہیں اور یقیناً ہو رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں اور ظلموں کی اب تو انتہا ہوئی ہوئی ہے۔لیکن ان ظلموں کی کہانی اگر سچ کی شکل میں بھی سنائی جائے اور غلط بیانی سے کام نہ لیا جائے اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جائے تو تب بھی مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔اس قوم میں اکثریت میں ہمدردی کا جذبہ بہر حال ہے جس کے تحت یہ مدد کرتے ہیں۔پس ہر موقع پر ہمیں اپنے سچ کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر آپ نے جماعت کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کی نیکیوں کے دو حصے ہیں ایک حصہ فرائض کا ہے اور دوسرا حصہ نوافل کا ہے۔وہ فرائض جو حقوق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کے علاوہ آپ نے اُن کی بھی مثال دی ہے جو حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں۔اس میں بھی فرائض اور نوافل ہیں۔اور ان فرائض میں فرمایا کہ ایسے فرائض جو انسان پر فرض کئے گئے ہیں، مثلاً قرض کا اتارنا۔کسی نے قرض لیا ہے تو اُس کا اتارنا اُس پر فرض ہے۔یا نیکی کے مقابل پر نیکی کرنا، یہ ایک مسلمان پر اور احمدی مسلمان پر فرض