خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 533 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 533

خطبات مسرور جلد دہم 533 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء تاکہ بعد میں نہ مہمان لانے والے احمدیوں کو شکوہ ہو کہ سیکیورٹی چیک بہت زیادہ ہو گیا ہے، شامل ہونے سے روکا گیا یا بلا وجہ دیر لگائی گئی یا بعض وجوہات کی بنا پر انکار کر دیا گیا۔آنے والا جو مہمان ہے اُس کے لئے بھی یہ چیز پریشانی اور Embarrassment کا باعث بن جاتی ہے۔تو اس بات کا خیال رکھیں کیونکہ آپ جس کو نہیں جانتے اُن کے لئے بہر حال پھر ضرورت سے زیادہ تفتیش بھی کرنی پڑتی ہے۔اس لئے پہلے سے ہی انتظامات مکمل ہونے چاہئیں۔جس کو بھی ساتھ لانا ہو، اور وہ بھی اس صورت میں جب یہاں با قاعدہ انتظام ہو، اور یا جو بھی پراسیس (Process) ہے اس میں سے پہلے ہر احمدی کو گزرنا چاہئے۔یہ ہدایت گو کہ کارکنان کے لئے نہیں ہے لیکن یہ ایسی تھی کہ ان ہدایات کے ساتھ دینا ضروری تھی اس لئے کہ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہئے۔اب ایک ہفتہ باقی ہے، اگر کسی نے کسی مہمان کو لانا ہے تو اس کا پہلے انتظام کرلیں کیونکہ بعد میں مجھے ایسے بعض خطوط بھی آتے ہیں۔اور انتظامیہ کسی وجہ سے انکار کرتی ہے تو پھر انتظامیہ کی مجبوری کو بھی لوگوں کو سمجھنا چاہئے اور شکوہ نہیں کرنا چاہئے۔اور انتظامیہ کو بھی ایسے معاملات کو بڑی حکمت سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ کسی کو شکوہ پیدا نہ ہو، اور یہی اعلیٰ اخلاق ہیں جن کو ہمیں دکھانا چاہئے۔نیز یہ بھی کھول کر بتانا چاہتا ہوں کہ غیر مہمانوں کو لانے والے احمدیوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ دنیا کے عمومی حالات بھی اور خاص طور پر جماعت کے بارے میں بعض طبقے کی جو سوچ ہے اور جو حالات ہیں، شرارتی عنصر جو ہے، بڑا ایکٹو (Active) ہوا ہوا ہے۔نقصان پہنچانے کی بعض دفعہ کوشش ہوتی ہے۔اس لئے غیر مہمانوں کو لانے والے بھی صرف ابتدائی اور سرسری واقفیت کی بنا پر ان کو مہمان نہ بنا لیا کریں۔اس بارے میں بھولے پن کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ ہر طرح سے تسلی کے بعد اور پرانے تعلقات والے جو ہیں، اُن کو ہی اگر مہمان لانا ہو تو جیسا کہ میں نے کہا کہ انتظامیہ سے پہلے رابطہ کر کے اور تمام معاملات طے کر کے پھر لے کر آئیں۔آخر میں پھر اس بات کی طرف توجہ دلا دوں کہ مہمانوں کی اور خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی کو فضل الہی سمجھیں اور اس کے لئے پہلے سے بڑھ کر قربانی کے جذبے کے تحت اپنی خدمات پیش کریں اور بجالائیں۔اللہ تعالیٰ سب کارکنان کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دعاؤں پر بہت زور دیں، اللہ تعالیٰ جلسے کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور تمام انتظامات بروقت مکمل بھی ہو جا ئیں۔اور جو جو انتظامات ہیں ، وہ کارکنان اُن کو احسن رنگ میں سر انجام دینے والے بھی ہوں۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 21 ستمبر تا 27 ستمبر 2012 جلد 19 شماره 38 صفحہ 5 تا8)