خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 531
531 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء خطبات مسرور جلد دہم خاص طور پر سیکیورٹی کے کارکن جب ڈسپلن کریں تو پیار محبت سے سمجھائیں۔بیشک جلسہ کی مارکی کے اندر بھی اور باہر بھی ڈسپلن ضروری ہے۔اسی طرح سیکیورٹی بڑی ضروری ہے اور آجکل کے حالات میں توسیکیورٹی کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔لیکن ایسا انداز اختیار کیا جائے جو کسی کے جذبات کو انگیخت نہ کرے، کوئی اس سے برا نہ منائے۔خاص طور پر غیر مہمانوں کے ساتھ اگر کوئی معاملہ ایسا سنجیدہ ہو تو جو اپنے افسرانِ بالا ہیں اُن تک پہنچایا جائے، بجائے اس کے کہ وہاں تو تکار ہو جائے اور معاملہ اور بگڑ جائے۔عموماً تو غیر مہمانوں کا پتہ ہی ہوتا ہے اور اچھا رویہ ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ بعضوں کو لوگ نہیں بھی جانتے ، اُن کے ساتھ بھی بہت ہی مہذب رویہ ہونا چاہئے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب ہر ایک کے ساتھ مہذب رو یہ ہوگا۔کیونکہ جلسہ دیکھنے بہت سے لوگ ایسے بھی آتے ہیں جب وہ آپ کے اخلاق دیکھتے ہیں تو اُس کی وجہ سے ہی وہ متاثر ہو جاتے ہیں۔پس اچھے اخلاق ، اچھی تبلیغ بھی ہے۔پہلے تو جب تعداد تھوڑی تھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود مہمانوں کی مہمان نوازی کا اہتمام بھی فرماتے تھے اور اُن کے ساتھ کھانا بھی کھاتے تھے۔لیکن پھر تعداد کی زیادتی ایک وجہ بنی اور کچھ پر ہیزی کھانے اور طبیعت کی وجہ سے علیحدہ کھانا پڑا اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی تعداد بہت وسعت اختیار کر چکی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نمائندگی میں خلیفہ وقت کے لئے ممکن نہیں ہے کہ اس طرح ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا جائے یا ہر ایک کا انفرادی طور پر براہِ راست خیال رکھا جائے۔پھر اس طرح اور بھی زیادہ مصروفیات ہو گئی ہیں۔مہمانوں سے ملنا، یہ بھی ایک کام ہوتا ہے۔دوسرے کام بھی ہیں۔اس لئے یہ نظام قائم کیا گیا ہے کہ ہر شعبہ جو ہے وہ مہمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولت پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اپنی ذمہ واری کو پورے احساس سے ادا کرے۔خلیفہ وقت کا کارکنان پر یہ اعتماد ہوتا ہے کہ مہمانوں کے حق کو اچھی طرح ادا کر رہے ہوں گے۔اور اس اعتماد پر ہر کارکن کو پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس ہر کارکن اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے دکھانے کی کوشش کرے اور اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔آنے والوں کو بہر حال یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ لوگ خلیفہ وقت کے قریب رہنے والے ہیں، اس لئے ان کے ہر قسم کے معیار ، عبادتوں کے معیار بھی ، نیکی کے معیار بھی ، اعلیٰ اخلاق کے معیار بھی ، اونچے ہوں گے اور ہونے چاہئیں۔پس ہر کارکن یہ خیال رکھے کہ صرف اپنی ڈیوٹی ادا کرنا ہی اُس کا فرض نہیں ہے بلکہ خاص طور پر ان دنوں میں نمازوں اور عبادت کی طرف توجہ اور با قاعدگی بھی انتہائی اہم ہے۔عموماً تو ہے ہی ، اور اس کا خاص طور پر اہتمام ہونا چاہئے۔اسی طرح دوسری نیکیوں کی طرف بھی توجہ ہو۔اعلیٰ اخلاق ہوں، یہ تو ایک عہد یدار کا، جماعت کے کام کرنے والے کا، ایک مستقل پہلو ہے