خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 527 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 527

خطبات مسر در جلد دہم 527 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان بن کر پڑے رہتے تھے۔اُن کا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ ہوتا تھا۔ہم لوگ کئی کئی گھر والے اور امیر لوگ تھے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دن میں کبھی صبح کو اور کبھی شام کو جایا کرتے تھے۔(سنن الترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابی هریرة حديث 3837 پس یہ لوگ تھے جنہوں نے دین کو دنیا پر اس طرح مقدم کر لیا کہ سب کچھ بھول گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مستقل مہمان بن گئے۔اس مہمان نوازی کے بارے میں بھی روایات ملتی ہیں کہ ان کا کس طرح اور کیا حال ہوتا تھا۔یہ نہیں کہ مہمانوں کی بھی کوئی ڈیمانڈ ہوتی تھی، بلکہ وہ تو پڑے ہوئے تھے۔مہمان نوازی کا حق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادا فرمایا کرتے تھے۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ہے، ان کے بارے میں ایک روایت ہے کہ ایک موقع پر کئی دن کے فاقے سے بھوک کی شدت سے بے تاب تھے۔لمبی روایت ہے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو گھر تشریف لے گئے۔حضرت ابو ہریرۃ ساتھ تھے۔وہاں گھر میں گئے۔ایک دودھ کا پیالہ کہیں سے تحفہ آیا ہوا تھا، تو آپ نے حضرت ابوہریرۃ کو فرمایا کہ جاؤ جتنے بھی اصحاب صفہ بیٹھے ہیں اُن سب کو بلا لاؤ۔ان کی بھوک سے بُری حالت تھی۔کہتے ہیں میں گیا اور ایک دائرہ کی صورت میں سب بیٹھ گئے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا کہ دائیں طرف سے ان کو یہ دودھ پلانا شروع کرو۔یہ خود بیان فرماتے ہیں کہ میری بھوک کی ایسی حالت تھی کہ میں سمجھتا تھا کہ سب سے زیادہ پہلا حق میرا ہے۔اور جس طرح میں دودھ دیتا جاتا تھا، ہر اگلے شخص کو دودھ دیتے ہوئے میرے دل کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ اب یہ ختم ہو جائے گا اور میں بھوکا رہ جاؤں گا۔اتنی بے چینی تھی بھوک کی۔لیکن بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیونکہ اس سے ایک دوگھونٹ لئے ہوئے تھے، برکت پڑی ہوئی تھی ، دعا تھی ، اس برکت سے اُن سب نے دودھ پی لیا۔(ماخوذاز صحیح بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبى الله واصحابه و تخليهم عن الدنيا حديث 6452) تو یہ تھے مہمان اور اس طرح مہمان نوازی ہوتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنا بھی خیال نہیں فرماتے تھے بلکہ ان لوگوں کا پہلے خیال فرمایا کرتے تھے۔پس یہ وہ لوگ تھے جو دین کا علم سیکھنے کی خواہش کی وجہ سے اپنا سب کچھ قربان کر چکے تھے اور مستقل مہمان تھے۔آج ہمارے پاس اس طرح کے مستقل مہمان تو نہیں ہیں ہمارے پاس لیکن دینی اغراض کے لئے، دین سیکھنے کے لئے آنے والے